کرناٹک ریاست کے طرز پر تلنگانہ میں وقف بورڈ کے اجلاس منعقد کرنے پر زور

   

صدر نشین تلنگانہ بورڈ اور سی ای او کو مولانا ابوالفتح سید بندگی بادشاہ قادری کا مکتوب
حیدرآباد۔3۔جولائی (سیاست نیوز) کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے اجلاسوں میں کسی بھی طرح کی رکاوٹوں کے بغیر وقف بورڈ کے اجلاس منعقد ہورہے ہیں اور تلنگانہ میں وقف بورڈ کے اجلاس کے انعقاد کے سلسلہ میں عہدیداروں کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹوں پر اب اعتراض کیا جانے لگا ہے اور استفسار کیا جا رہاہے کہ دو پڑوسی ریاستوں میں کس طرح سے دو مختلف موقف اختیار کئے جاسکتے ہیں !تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے سب سے پہلے عدالتو ںمیں مقدمات کی پیروی کے لئے وقف بورڈ کے وکلاء کا تقرر کیاجانا ضروری ہے جو کہ طویل مدت سے زیر التواء رہنے کے سبب کئی مقدمات میں مناسب پیروی نہیں ہوپارہی ہے جبکہ وقف بورڈ کے وکلاء کے تقرر کے اقدامات کے لئے بھی ضروری ہے کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کا اجلاس منعقد کیا جائے لیکن کئی ماہ سے مسلسل توجہ دہانی کے باوجود تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے اجلاس کے عدم انعقاد کے متعلق دریافت کرنے پر کہا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت نے وقف مرممہ قوانین کو نافذ کردیاہے اور اس سلسلہ میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے چیف اکزیکیٹیو آفیسر نے حکومت سے اس سلسلہ میں قانونی رائے طلب کرتے ہوئے وقف بورڈ کے اجلاس کو التواء کا شکار بنائے رکھا ہے۔ رکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ مولانا ابولفتح سید بندگی بادشاہ قادری نے صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی کے علاوہ چیف اکزیکیٹیو آفیسر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کرناٹک میں بغیر کسی تعطل یا رکاوٹ کے منعقد ہونے والے وقف بورڈ کے اجلاسوں کے متعلق واقف کروایا اور کہا کہ تلنگانہ میں وقف امور کے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی لئے صدرنشین یا چیف اکزیکیٹیو آفیسر کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے روزمرہ کے امور کو حل کرتے ہوئے بعد ازاں بورڈ کی منظوری حاصل کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ انہوں نے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں وکلاء کی عدم موجودگی اور اسٹینڈنگ کونسل نہ ہونے کے سبب ہونے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی متوجہ کرواتے ہوئے اس سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات کا آغاز کرنے کی خواہش کی ۔3