عدالت میں زیر تصفیہ مسائل پر بیان بازی کی اجازت نہیں،سالیسٹر جنرل اور دشنت داوے میں نوک جھونک، آئندہ سماعت 25 جولائی کو مقرر
حیدرآباد۔/9 مئی، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے کرناٹک مسلم تحفظات پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے عوامی بیانات پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ جو معاملہ عدالت میں زیر تصفیہ ہو اس پر اظہار خیال اور بیان بازی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم اس طرح مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی اجازت نہیں دے سکتے جبکہ ہم اس معاملہ کی سماعت کیلئے تیار ہیں۔ جسٹس کے ایم جوزف، جسٹس بی وی ناگا رتنا اور جسٹس احسان الدین امان اللہ پر مشتمل سہ رکنی بنچ نے کرناٹک کی انتخابی مہم میں امیت شاہ کے 4 فیصد مسلم تحفظات کی برخواستگی کے بیانات سے واقف کرانے پر یہ ردعمل ظاہر کیا۔ تحفظات کے حق میں درخواست گذاروں کے وکیل دشنت داوے نے عدالت کو امیت شاہ کے بیانات سے واقف کرایا جس میں انہوں نے مسلم تحفظات کو غیردستوری قرار دے کر اسے ختم کرنے کا فخریہ طور پر اظہار کیا۔ مسلم تحفظات مسئلہ پر آج سپریم کورٹ کی بنچ پر سماعت مقرر کی۔ بنچ نے کہاکہ جب معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے، اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہیئے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کرناٹک حکومت کی نمائندگی کرکے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر کوئی بھی تحفظات غیر دستوری ہیں۔ تشار مہتا نے امیت شاہ کے بیانات سے لا علمی کا اظہار کیا اور کہا کہ بی جے پی انتخابی منشور میں اس معاملہ کی شمولیت سے واقف ہیں۔ بنچ نے کہا کہ اس مسئلہ پر عوامی بیانات نہیں دیئے جانے چاہیئے اور ہمارا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ دشنت دوے نے کہا کہ وہ امیت شاہ کے بیانات کو عدالت کے سامنے آن ریکارڈ پیش کرسکتے ہیں۔ بنچ نے غلام رسول و دوسروں کی درخواستوں کی سماعت کو جولائی تک ملتوی کردیا۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل کا بیان ریکارڈ کیا کہ آئندہ سماعت تک کرناٹک حکومت 4 فیصد مسلم تحفظات کی برخواستگی کے 27 مارچ کے فیصلہ پر کوئی کارروائی نہیں کریگی۔ درخواست گذاروں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اندرا ساہنی بمقابلہ مرکزی حکومت 1992 مقدمہ میں مسلمانوں کی سماجی و تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر نشاندہی کو منظوری دی ہے۔ درخواست گذاروں کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو معاشی پسماندہ گروپ میں شامل کرنا غیر قانونی ہے۔ سماعت کے دوران دشنت داوے نے بنچ سے کہا کہ کوئی اور نہیں بلکہ وزیر داخلہ نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے مسلمانوں کے تحفظات کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالیسٹر جنرل نے عدالت کو تیقن دیا تھا کہ قطعی فیصلہ پر عمل کیا جائے گا لیکن اس تیقن کے باوجود کھلے عام بیان بازی توہین عدالت کے مترادف ہے۔ دوے نے کہاکہ میرے نظریہ کے مطابق یہ عدلیہ کی توہین ہے۔ امیت شاہ اسی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں جس پارٹی کی کرناٹک میں حکومت ہے۔ جسٹس ناگا رتنا نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر آپ درست کہہ رہے ہیں تو پھر ہمیں حیرت ہے۔ جب کوئی معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہو تو کسی کو اس طرح کے بیانات دینے کی اجازت نہیں۔ دشنت دوے نے بتایا کہ وہ لوگ فخریہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے تحفظات کو ختم کردیا ہے۔ جس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مداخلت کی اور کہا کہ عدالت کو بیان کے سیاق و سباق سے واقف نہیں کرایا گیا۔ تشار مہتا نے کہا کہ میں یہاں سیاست کرنا نہیں چاہتا، اگر داوے چاہیں تو درخواست دے سکتے ہیں اور ہم اس بیان سے واقف نہیں جس کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ دشنت داوے نے بتایا کہ امیت شاہ نے کہا کہ 4 فیصد مسلم تحفظات غیر دستوری ہیں اور بی جے پی نے انہیں ختم کردیا ہے۔ جسٹس جوزف نے مداخلت کی اور کہا کہ 1971 میں چیف منسٹر مغربی بنگال کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا تھا جبکہ انہوں نے عدالت میں زیر تصفیہ ایک معاملہ پر پریس کانفرنس میں اظہار خیال کیا۔ سالیسٹر جنرل نے مذہبی بنیاد پر تحفظات کو غیر دستوری قرار دیا جبکہ دشنت داوے نے ان کے موقف کی مخالفت کی اور کہا کہ تحفظات مذہبی بنیادوں پر نہیں ہیں۔ سالیسٹر جنرل نے ہم جنس شادیوں کے معاملہ میں دستوری بنچ پر سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ بنچ نے آئندہ سماعت 25 جولائی کو مقرر کی ہے۔ر