نئی دہلی: یوتھ کانگریس نے کرناٹک کے کالجوں میں ایک مخصوص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی کو سماجی تانے بانے ، ثقافتی تاریخ اور امن کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے ۔ یوتھ کانگریس کے صدر سرینواس بی وی نے بتایا کہ کرناٹک ملک میں ایک یونی کارن پیدا کرنے والی سب سے بڑی ریاست ہے اور ملک کے آئی ٹی ہب کے طور پر مشہور ہے لیکن مذہبی جنون عروج پر ہے اور ایک مخصوص مذہب کی کالج جانے والی لڑکیوں کو بنیادی حقوق سلب کیا جارہا ہے ۔ سرینواس نے اپنی درخواست میں کہا کہ کرناٹک میں حالیہ کچھ انتہا پسندی کے واقعات کی وجہ سے انڈین یوتھ کانگریس بہت پریشان ہے اور اس معاملہ پر اعتراض کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن حکومت ان کی تشویش پر توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ اڈوپی، منڈیا، چکمگلور اضلاع اور ریاست کے دیگر مقامات پر کئی مواقع پر سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں حجاب یا سر پر دوپٹہ پہننے کے لیے داخلے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ بات آگے بڑھ کر ملک کے دیگر حصوں جیسے پڈوچیری میں بھی پھیل گئی۔ ایک واقعہ کرناٹک کے منڈیا ضلع میں بھی منظر عام پر آیا ہے جہاں برقع پوش لڑکی کو مذہبی نعرے لگانے والے مردوں کے ایک بڑے گروپ نے مارا پیٹا۔ یوتھ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ تمام واقعات آئین کے آرٹیکل 21، 21 اے ، 14 اور 25 کی خلاف ورزی کرتی ہیں جو شہریوں کو زندگی گزارنے کے حق، تعلیم کا حق، برابری کا حق اور مذہبی آزادی کا حق فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے چیلنجز سے نبردآزما ہوتے ہوئے حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے ، وہ مستقبل پر مبنی ، ترقی پسند اور عوام دوست ہے اور اس سے ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ انہوں نے بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے ضابطے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صورتحال واضح ہو جائے گی اور لوگ شک وشبہات کی حالت میں نہیں رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ملک میں دفاعی مصنوعات کی مینوفیکچرنگ کو بڑھانے اور دفاعی شعبے میں ملک کو خود کفیل بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ تلگو دیشم پارٹی کے کنکمیدلا رویندر کمار نے کہا کہ بجٹ میں صحت کے لیے مناسب التزامات نہیں کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کو خصوصی درجہ دینے کے مطالبہ پر ہمدردی اور سنجیدگی سے غور نہیں کیا جا رہا ہے ۔ آندھرا پردیش کی برسراقتدار حکومت پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے ان کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے کہا کہ مسٹر کمار کی تقریر کے ساتھ ہی عام بجٹ پر بحث مکمل ہو گئی ہے اور تمام پارٹیوں کے 42 ارکان نے ایوان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔
