کرناٹک میں اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کو مستحکم کرنے کا فیصلہ

   

مسلم نمائندوں اور اردو تنظیموں کے ساتھ وزیر تعلیم مدھو بنگارپا کا اجلاس، ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات
حیدرآباد۔/6 ستمبر، ( سیاست نیوز) کرناٹک کی سدا رامیا زیر قیادت کانگریس حکومت نے اردو ذریعہ تعلیم کی حوصلہ افزائی اور فروغ کیلئے اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کے تقررات اور انفرااسٹرکچرکی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر کے مشیر برائے سیاسی امور نصیر احمد کی مساعی سے وزیر تعلیم مدھو بنگارپا نے مسلم عوامی نمائندوں، اردو تنظیموں اور ٹیچرس کی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ ریاستی وزیر حج امور رحیم خاں، سابق وزیر تنویر سیٹھ ، ارکان اسمبلی کنیز فاطمہ، محمد رضوان اور رکن کونسل محمد جبار نے اجلاس میں شرکت کی۔ انجمن ترقی اردو کرناٹک کے صدر محمد عبید اللہ شریف نے بتایا کہ وزیر تعلیم مدھو بنگارپا نے اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے مناسب فنڈز جاری کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا تیقن دیا۔ محمد عبید اللہ شریف کے مطابق اردو اداروں اور ٹیچرس کی تنظیموں کی جانب سے وزیر تعلیم کو اردو مدارس کی زبوں حالی سے واقف کرایا گیا۔اردو میڈیم اسکولوں میں ڈراپ آؤٹ کے رجحان کو روکنے کیلئے شعور بیداری مہم سے اتفاق کیا گیا۔ 2018-19 میں کرناٹک میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد تقریباً 5 ہزار تھی جو گھٹ کر 3800 ہوچکی ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں میں داخلے اور طلبہ کی شمولیت کے سلسلہ میں مساجد کمیٹیوں اور مقامی رضاکارانہ تنظیموں سے مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے گذشتہ سال ایک ہزار ہمہ لسانی مدارس تشکیل دیئے تھے۔ امدادی اور غیر امدادی اسکولوں میں ہمہ لسانی کورسیس متعارف کئے گئے۔ انفرااسٹرکچر کی کمی کے سبب لڑکیوں میں تعلیم کے رجحان میں کمی آئی ہے۔ ایسی مساجد جہاں اسکولوں کیلئے کلاسیس کے کمرے دستیاب ہیں وہاں حکومت کی جانب سے اسکول قائم کئے جائیں گے۔ ریاست بھر میں اساتذہ کی 2070 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ٹیچرس اہلیتی امتحان میں اردو میڈیم امیدواروں کے مایوس کن نتائج کو دیکھتے ہوئے حکومت نے انجمن ترقی اردو اور دیگر اداروں کے ذریعہ امتحانات کی تیاری میں تعاون اور میٹریل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انجمن ترقی اردو نے ریاست میں اردو میڈیم مدارس کے سروے کیلئے 5 ریٹائرڈ عہدیداروں کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی۔ وزیر تعلیم مدھو بنگارپا نے تیقن دیا کہ حکومت کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرے گی۔