کرناٹک میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے

   


گلبرگہ میں انجمن ترقی اردو کی مجلس عاملہ کا اجلاس، مختلف شخصیتوں کا خطاب

گلبرگہ:انجمن ترقی اُردو ہند شاخ گلبرگہ کی مجلسِ عام کا اجلاس بہ مقام خواجہ بندہ نوازؒ ایوانِ اردو انجمن کامپلکس زیر صدارت جناب امجد جاوید صدرِ انجمن منعقد ہوا۔ اس اجلاس سے ممتاز ادیب ونقاد بانی معتمد انجمن ترقی اردو ہند گلبرگہ ڈاکٹر وہاب عندلیب نے خطاب کرتے ہوئے حالات حاضرہ کے تناظر میں کہا کہ ایسے افراد سے اجتناب ضروری ہے جنھیں اردو اور انجمن کے کاز سے زیادہ کرسی، مائک اور کیمرہ عزیز ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ اراکینِ انجمن کا فرض ہے کہ وہ متفقہ طورپر ایسے اراکین کو منتخب کریں جنھیں اردو انجمن کے کاز سے دل چسپی ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ اراکین متحد ہو کے بے لوث افراد کا انتخاب کریں جن میں سینئر اراکن کے ساتھ ساتھ نئے اراکین بھی شامل ہوں۔ڈاکٹر پیر زادہ فہیم الدین نے حکومت کرناٹک سے مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کرناٹک بلا تاخیر اردو اکادمی کی تشکیل جدید عمل میں لائے اور اس کی سرگرمیوں کے لیے بجٹ میں اضافہ بھی کرے ۔ ڈاکٹر اسماء تبسم صاحبہ نے اپنی قرارداد میں یہ مطالبہ کیا کہ کرناٹک میں ایسے انگلش میڈیم اسکولس جہاں اردو زبانِ سوم کی حیثیت سے پڑھائی جارہی ہے ان اسکولس کے اردو ٹیچر اردو اکادمی مناسب اعزاز یہ دے (معلوم نہیں اکادمی نے یہ کیوں بند کیا) جناب محمد صلاح الدین نے انجمن کے توسط سے حکومت کرناٹک سے مطالبہ کیا کہ وہ 1987 تا 1995 کے دوران قائم خانگی مدارس کی گرانٹ پر عائد پابندگی کو فوراً ختم کرے اور ان کی گرانٹ منظور کرے اور 1995-96 سے تا حال یعنی 2020-21 کے دوران منظورہ (پچیس سال) خانگی تعلیمی اداروں کو گرانٹ کے احکام فوری جاری کرے۔ پچیس سالوں سے حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں کی لہٰذا خانگی تعلیمی اداروں کے انتظامی کمیٹیوں کو مزید مالی بوجھ سے نجات بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر کوثر پروین صاحبہ نے ایک بہت ہی اہم قرار داد پیش کی انھوں نے حکومت کرناٹک سے پرُزور مطالبہ کیا کہ اُردو کرناٹک ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں بولی سمجھی اور پڑھی جانے والی زبان ہے۔ اس کا ادبی سرمایہ دنیا کے کسی بھی بڑی زبان کے ہم پلہ ہے ایسی زبان کو نظر انداز کرنا حکومت کی تنگ نظری کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ انجمن کے توسط سے حکومت کرناٹک سے بہ مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اردو کو کرناٹک کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے ۔ اس کے بعد 2018 تا 2020 سہ سالہ معیاد میں انجمن کے اراکین عاملہ اور حیاتی اراکین کے سانحہ ہائے ارتحال پر قرار دادِ تعزیت پیش کر کے انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔