کرناٹک میں اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ میں 2101 کروڑ روپئے مختص

,

   

بی جے پی حکومت کے مقابلہ دگنا بجٹ، 10 اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس اور سیول سرویس کوچنگ‘ اقلیتی طلبہ کو 20 لاکھ تک بلاسودی قرض کی گنجائش
حیدرآباد۔ 9 جولائی (سیاست نیوز) کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اقلیتوں سے کئے گئے وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے مالیاتی سال 2023-24 کے لئے 2101 کروڑ کا بجٹ مختص کیا ہے۔ چیف منسٹر سدارامیا نے اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جس میں اقلیتی بہبود کے لئے کئی نئی اسکیمات کا اعلان کیا گیا۔ بی جے پی حکومت کے مقابلہ کانگریس نے اقلیتی بجٹ کو دگنا کردیا ہے۔ اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے علاوہ اسکالرشپ اسکیم کو بحال کرنے کا اعلان کیا گیا۔ سدارامیا حکومت نے پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لئے پری میٹرک اسکالرشپ بحال کردی ہے جسے مرکز کی نریندر مودی حکومت نے روک دیا تھا۔ پری میٹرک اسکالرشپ کے لئے 60 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ میں میناریٹیز ڈائرکٹوریٹ کے لئے 1815.14 کروڑ مختص کئے گئے۔ اقلیتی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو 110 کروڑ جبکہ حج اور اوقاف کے لئے 127 کروڑ مختص کئے گئے۔ اقلیتی اداروں میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لئے 48.90 کروڑ مختص کئے گئے۔ اردو اکیڈیمی اور اقلیتی کمیشن کے لئے فی کس 2 کروڑ روپے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور حکومت نے دونوں اداروں کے لئے گزشتہ سال کے بقایا بجٹ کو بحال کیا ہے۔ کرناٹک کے 62 میناریٹیز مرارجی دیسائی اقامتی اسکولوں کو اپ گریڈ کرتے ہوئے چھٹویں سے بارہویں جماعت تک کلاسیس کا آغاز کیا جائے گا جس سے 13 ہزار طلبہ استفادہ کرپائیں گے۔ اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کے لئے 30 کروڑ روپے بجٹ میں مختص کئے گئے۔ مرارجی دیسائی اسکولوں میں 12500 نئے طلبہ کو داخلہ دیا جائے گا جس کے لئے 23 کروڑ فنڈ مختص کیا گیا۔ جاریہ مالیاتی سال اقلیتوں کے لئے 10 نئے مرارجی دیسائی اقامتی اسکول قائم کئے جائیں گے۔ مولانا آزاد اسکولوں میں بہتر نتائج کو دیکھتے ہوئے مزید 12500 طلبہ کو داخلہ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اسکولوں کے انتظام پر 23 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔ مولانا آزاد اسکولوں میں 22 اسکولوں کا نتیجہ صد فیصد رہا ہے۔ اقلیتی طلبہ کو 2 فیصد سود کے ساتھ ایک لاکھ روپے سالانہ تعلیمی قرض جاری کیا جائے گا۔ پروفیشنل کورسیس میں زیر تعلیم طلبہ اسکیم سے استفادہ کر پائیں گے۔ اقلیتیوں کی اقامتی اسکولوں میں کنڑ اور انگریزی زبان پر مہارت کیلئے لینگویج لیاب قائم کیا جائیگا جس پر 75 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ حکومت نے رام نگرم، داون گیری، کلبرگی اور جنوبی کیندرا میں اقلیتوں کے لئے اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اقلیتی امیدواروں کو نیٹ، جے ای ای، سی ای ٹی اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لئے کوچنگ فراہم کی جائے گی جس کے لئے 8 کروڑ مختص کئے گئے۔ طلبہ کو سیول سرویسیز اور کرناٹک اسٹیٹ سرویسیز کے علاوہ دیگر امتحانات کی کوچنگ کیلئے حج بھون میں 10 ماہ تک اقامتی کوچنگ سنٹر قائم کیا جائے گا۔ بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کیلئے طلبہ کو 20 لاکھ روپے بلاسودی قرض فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ خود روزگار اسکیم کے تحت 10 ہزار اقلیتی نوجوانوں کو 20 فیصد سبسیڈی کے ساتھ ایک لاکھ روپے قرض منظور کیا جائے گا۔ بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کاروبار کیلئے 50 فیصد سبسیڈی کے ساتھ 3 لاکھ روپے قرض جاری کیا جائے گا۔ حکومت نے 126 زیر تعمیر شادی محل اور کمیونٹی ہالس کی تکمیل کیلئے 54 کروڑ مختص کئے ہیں۔ اقلیتی کالونی ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے 360 کروڑ مختص کئے گئے۔ جین طبقہ کیلئے 25 کروڑ اور کرسچین طبقہ کیلئے 100 کروڑ فنڈس مختص کئے گئے۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ترقی کے لئے 50 کروڑ فراہم کئے جائیں گے۔ ر