کرناٹک میں انسداد تبدیلیٔ مذہب قانون منسوخ

,

   

اسکولی نصاب سے ہیڈگوار اور ساورکر کو ہٹانے کا بینہ کی منظوری

نئی دہلی : کرناٹک میں کانگریس پارٹی کو اقتدار میں آئے ہوئے صرف ایک مہینہ ہی ہوا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کے ذریعہ منظور کردہ تبدیلی مذہب کے قانون کو منسوخ کرنے کا ذہن بنا لیا ہے۔ کابینہ نے اس پر اپنی مہر بھی لگا دی ہے۔ جلد ہی اس بل کو اسمبلی کی میز پر رکھنے کی تیاری ہے۔ اس بل کا بنیادی مقصد مذہب کی آزادی کے حق کا تحفظ کرنا ہے اور غلط بیانی، بے جا اثر و رسوخ، جبر، لالچ کے ذریعے ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں غیر قانونی تبدیلی کو روکنا ہے۔کرناٹک کے وزیر ایچ کے پاٹل نے کہا کہ ریاستی کابینہ نے اسکولوں اور کالجوں میں پریئر کے ساتھ آئین کی تمہید کو پڑھنے کو بھی لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پچھلے سال ستمبر میں کرناٹک میں بسوراج بومئی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے مذہب کی تبدیلی کے خلاف ایک قانون پاس کیا تھا۔ کرناٹک کی قانون ساز کونسل میں بی جے پی کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے یہ بل پاس ہونے کے لیے التوا میں پڑا تھا۔ جس کے بعد بی جے پی نے مئی میں ایک آرڈیننس کے ذریعے بل پاس کیا۔اس وقت بی جے پی نے کہا تھا کہ ان دنوں ریاست میں مذہب کی تبدیلی کافی عام ہو گئی ہے۔ اس وقت کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ریاست میں جبری اور زبردستی تبدیلی مذہب کے واقعات عام ہو گئے ہیں۔اس (منسوخ شدہ) قانون کے مطابق، اگر کوئی کسی بھی فرد کی مذہب تبدیل کرنے میں ملوث ہوتا ہے تو اسے تین سے 10 سال تک کی قید اور50ہزار روپے جرمانے کے ساتھ سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اجتماعی مذہبی تبدیلی کیلئے تین سے 10 سال کی قید اور 50,000 ہزار روپئے جرمانہ ہوگا۔اس قانون نے اصولوں کو بھی تبدیل کیا ہے، اگر کوئی اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہے تو بغیر کسی اثر و رسوخ و دباؤ کے اس شخص کو کم از کم 30 دن پہلے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس ایک اعلامیہ جمع کرانا ہوگا۔اتنا ہی نہیں کرناٹک کابینہ نے اسکولی کتابوں میں بھی کئی تبدیلیاں کرنے کو منظوری دے دی ہے۔ سابقہ بی جے پی حکومت میں جن ابواب کو کتابوں میں شامل کیا گیا تھا، انھیں ہٹایا جائے گا۔ حکومت نے اسکولوں میں آئین کی تمہید کو پڑھنا بھی لازمی بنا دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کرناٹک کی اسکولی کتابوں میں تبدیلی کو لے کر کئی دنوں سے تبادلہ خیال ہو رہا تھا۔ کتابوں میں ہونے والی تبدیلی کی جانکاری ملنے کے بعد سے ہی بی جے پی ریاستی حکومت پر حملہ آور تھی۔ حالانکہ جمعرات کو سدارمیا حکومت نے یہ حتمی فیصلہ سنایا کہ کتابوں میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی۔ اس تبدیلی کو لے کر کانگریس حکومت نے پانچ رکنی کمیٹی بنائی ہے جس کی قیادت راجپا دلاوائی کر رہے ہیں۔ کتابوں سے جہاں ہیڈگیوار اور ساورکر کو ہٹایا جائے گا، وہیں نہرو اور امبیڈکر کی انٹری ہوگی۔میدیا رپورٹس کے مطابق چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک کے سوشل سائنس کی کتابوں میں کچھ ابواب تبدیل کیے جائیں گے۔