کرناٹک میں خشک سالی پر مرکز سے ناکافی فنڈکیخلاف احتجاج

   

ریاستی حکومت کا امداد کے معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ :سرجے والا

بنگلورو: خشک سالی میں راحت کے طور پر مرکزی حکومت کی جانب سے جاری مطالبہ سے بہت کم فنڈ کے خلاف کرناٹک حکومت نے سخت احتجاج کیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے احاطے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے وزیر اعلیٰ سدارمیا و نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں آج احتجاج کیا گیا جبکہ کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری و کرناٹک کانگریس کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا بھی اس میں شریک ہوئے۔اس احتجاج کے موقع پر ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ستمبر 2023 میں خشک سالی سے متعلق امداد کے لیے مرکز کو ایک میمورنڈم دیا تھا۔ اس میمورنڈم کے دیئے جانے کے بعد ستمبر سے اب تک ریاست کو 50 ہزار کروڑ روپئے کا مزید نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے منریگا کے تحت بھی پیسہ نہیں دیا ہے اور کسی کو کام نہیں ملا ہے۔ مرکز کو یہ فنڈ جاری کرنا ہوگا اور اس کیلئے ہماری جدو جہد جاری رہیگی۔کرناٹک کانگریس کے انچارج رندیپ سنگھ سورجے والا نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت پھر سے مرکزی حکومت کی جانب سے خشک سالی کیلئے 3,452کروڑ روپے کی امدادی رقم مختص کرنے کے مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم ریاست کی طرف سے ابتدائی طور پر طلب کیے گئے 18,172 کروڑ روپے سے بہت کم ہے ۔کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد کرناٹک کے کنڑ باشندوں اور کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہیکہ دونوں نے کنڑ عوام اور کرناٹک کے کسانوں کے مفادات کو نظرانداز کیا ہے۔ ریاست کے مفادات کو نظر انداز کر کے 14718 کروڑ روپے سے محروم کر دیا گیا ہے ۔ ریاست کے رائے دہندگان سے 7 مئی کو ہونے والے آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو سخت جواب دینے کی اپیل کرتے ہوئے سرجے والا نے زور دیا کہ ایم ایل اے ، ایم ایل سی اور پارٹی امیدوار ’عوام کی عدالت‘ میں اس مسئلے کو لے جائیں گے ۔انہوں نے کانگریس پارٹی کے انتخابی امکانات کے بارے میں امید کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کو 2019 میں حاصل ہونے والی واحد نشست سے اس بار 25 نشستوں تک اضافہ ہونے کی امید ظاہر کی۔ سرجے والا کے بیانات سے کرناٹک میں خشک سالی کے امدادی فنڈ کے معاملے پر بڑھتے ہوئے سیاسی تعطل کی نشاندہی ہوتی ہے ، کانگریس نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کی طرف سے ریاست کی نظر اندازی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔