کرناٹک میں طالبات کو پڑھائی سے روکنا درست نہیں

,

   

ایک سے زائد تعلیمی اداروں میں باحجاب اور برقعہ پوش طالبات ہندوتوا عناصر کے نشانہ پر

بنگلورو/نئی دہلی: کرناٹک کے اسکولوں میں حجاب لگا کر آنے والی طالبات کو اسکول؍ کالج میں داخل ہونے سے روکے جانے کے بعد یہ معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے ، جس پر کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی نے ہفتہ کو کہاکہ طالبات کو حجاب لگا کرآنے سے روکنا اُن کی تعلیم میں رخنہ ڈالنا اور اُن کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنا ہے ۔ راہول نے بسنت پنچمی کے موقع پر ٹوئٹ کیا کہ طالبات کے حجاب کو اُن کی تعلیم میں رکاوٹ بناکر ہم ہندوستان کی بیٹیوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔ ’ماں سرسوتی‘ (علم کی دیوی) تمام کو علم دیتی ہیں اور وہ کسی میں کسی طرح کا فرق نہیں کرتیں۔ کرناٹک حکومت نے جہاں باحجات طالبات کو تعلیمی ادارہ میں داخلے سے روکنے کا بچاؤ کیا ہے، وہیں اپوزیشن کانگریس سمیت دیگر پارٹیوں نے اس پر بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ سابق صدر کانگریس راہول گاندھی نے ریاستی حکومت کے طرزعمل پر طنز کیا اور ’سرسوتی پوجا‘ کے موقع پر ’ماں شاردا‘ سے تمام کو سوجھ بوجھ دینے کی پرارتھنا کی۔ یہ تنازعہ اوڈوپی کے ایک سرکاری پری یونیورسٹی کالج میں تب شروع ہوا جب طالبات کے دوران حجاب لگا کر کلاس میں آنے سے روک دیا گیا تھا۔ اسی کے ردعمل میں بڑی تعداد میں ہندو طلبا بھگوا کھنڈوا لگا کر تعلیمی اداروں میں آنے لگے۔ چیف منسٹر کرناٹک بسوراج بومئی نے جمعہ کو وزیر تعلیم کے بی سی ناگیش اور اعلیٰ سرکاری حکام کے ساتھ اس معاملہ پر میٹنگ منعقد کی تھی۔ میٹنگ کے دوران حکومت نے تعلیمی اداروں کو ہدایت دی کہ جب تک کرناٹک ہائیکورٹ کا فیصلہ نہیں آتا، وہ طلبا و طالبات کو کالج کمپلکس میں حجاب یا بھگوا کے ساتھ داخلے کی اجازت نہ دیں۔ وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ موجودہ قواعد 1985ء سے لاگو ہیں۔
ناگیش نے کہاکہ یہ کانگریس تھی، جس نے 1985میں ڈریس کوڈ پر اسکول ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی (ایس ڈی ایم سی) ڈریس کوڈ سے متعلق قوانین لائی تھی، اس لئے اسے بی جے پی کی حکومت کو قصوروار ٹھہرانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ شری رام سینا کے صدر پرمود متلک نے الزام لگایا کہ پپلز فرنٹ آف انڈیا اور دیگر سخت گیر اسلامی تنظیمیں حجاب معاملہ کو ہوا دے رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مخالفت کررہے مسلمان طلبا کاپو کے ہیں، جہاں سے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے تین رکن مقامی الیکشن جیتے ہیں۔ مسلم طلبا کے حق میں لڑتے ہوئے کانگریس کے لیڈر سدارمیا نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پہننا ان کا حق ہے ۔ انہوں نے حجاب معاملہ پر بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا۔