ساورکر کی مدح سرائی بھی عروج پر ۔ نصابی کتب کی تبدیلی ۔بی جے پی کی انتخابی تیاریاں
بنگلورو : کرناٹک اسمبلی انتخابات کیلئے اب جبکہ الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے ریاست میں برسر اقتدار بی جے پی کی جانب سے شیر میسور ٹیپوسلطان کے خلاف بیان بازیوں میںشدت پیدا کردی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ ٹیپو سلطان بمقابلہ لارڈ رام کی مباحث چھڑ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست میں بی جے پی کی جانب سے سنگھ پریوار کے ساورکر کی مدح سرائی کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا ہے ۔ ٹیپو سلطان اور ان کی مدح سرائی کرنے والوں پر زبانی حملے ہو رہے ہیں اور تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست میں ٹیپو جئینتی پر امتناع عائد کردیا گیا ہے ۔ سلام آرتی کی رسم کو آرتی ۔ نمسکارا کا نام دیا گیا ہے ۔ ایسی تمام نصابی کتب پر امتناع عائد کردیا گیا ہے جن میں ٹیپوسلطان کی مدح سرائی کی گئی ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے ریاست میںا یسے ڈرامے پیش کئے جا رہے ہیں جن میں ٹیپو سلطان کو مذہبی تعصب کے تناطر میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ان ساری کوششوں کے ذریعہ بی جے پی ریاست میں ہندو ووٹوں کو مجتمع کرنے میں جٹ گئی ہے ۔ بی جے پی نے رام نگر ضلع میںایک بڑی رام مندر تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ پارٹی اس مندر کو جنوبی ہند میں ایودھیا کا مقام دلانا چاہتی ہے ۔ چیف منسٹر بسوا راج بومائی نے اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے اپنے منصوبوںک ا اعلان کیا تھا ۔ وزیر اعلی تعلیم سی این اشوتھ نارائن کا کہنا ہے کہ اس مندر کی تعمیر کیلئے ایک تفصیلی پراجیکٹ رپورٹ بہت جلد تیار کی جائے گی اور چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ کو سنگ بنیاد کی تقریب کیلئے مدعو کیا جائگیا ۔ بی جے پی کے ریاستی سربراہ نلن کمار کتیل نے کہا کہ ریاست میں ٹیپو سلطان کے پرستاروں کیلئے کوئی جگہ نہںے ہے اور یہ ریاست صرف لارڈ رام اور ہنومان کے بھکتوںکیلئے ہی ہے ۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے بنگلورو میں ایک بڑے ائرپورٹ فلائی اوور کو ساورکر کا نام دیا ہے ۔ نصابی کتابوں میں بھی ساورکر کے تعلق سے مضامین کو شامل کیا گیا ہے ۔ بلگاوی میںساورکر کا پورٹریٹ نصب کیا گیا ہے ۔ ریاستی کانگریس کی جانب سے اسمبلی ہال میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی تصویر نہ لگائی جانے پر اعتراض کیا گیا ہے ۔ کانگریس حکومت کے خلاف جارحانہ مہم چلانے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔