کرناٹک میں مہنگی ہوئی شراب، بیئر کی قیمت میں بھی اضافہ

   

بنگلورو: کرناٹک کے سی ایم سدارامیا نے جمعہ کو اپنا 14 واں بجٹ پیش کیا۔ بطور وزیر اعلیٰ یہ ان کا ساتواں بجٹ ہے۔ سدارامیا وزیر اعلیٰ یا وزیر خزانہ ہیں جنہوں نے ریاست میں سب سے زیادہ بار بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس بجٹ میں شراب اور بیئر پینے والوں کو گہرا جھٹکا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے جمعہ کو اپنی بجٹ پیش کش میں کہا کہ شراب پر ایکسائز ڈیوٹی میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ساختہ غیر ملکی شراب پر ایڈیشنل ایکسائز ڈیوٹی میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جب کہ بیئر کے معاملے میں کو 175 فیصد سے بڑھا کر 185 فیصد کیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے ایکسائز کے تمام 18 سلیبس پر 20 فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔سدارامیا کی قیادت والی کانگریس حکومت نے ریاست کے لیے 3.28 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ شراب اور بیئر کی پیداواری فیس بڑھانے کے علاوہ صحت خدمات، تعلیم اور خواتین اور بچوں کی ترقی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں تعلیم کے لیے 37,587 کروڑ روپے اور خواتین اور بچوں کی ترقی کے لیے 24,166 کروڑ روپے شامل ہیں، جو کہ کل بجٹ مختص کا بالترتیب 11% اور 7% ہے۔ صحت اور خاندانی بہبود کے لیے 14,950 کروڑ کا انتظام ہے۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے یہ بھی کہا کہ انا بھاگیہ اسکیم کے تحت غربت کی لکیر سے نیچے (بی پی ایل) خاندان کے ہر فرد کو 10 کلو مفت چاول ملے گا۔ اس کے لیے سالانہ 10,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم سے 4.42 کروڑ مستفیدین کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے نئی اندرا کینٹین قائم کرنے اور ریاست بھر میں موجودہ کینٹینوں کی ترقی کے لیے 100 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو دارالحکومت بنگلور کی ترقی کے لیے مختص کی گئی ہے۔ جس کی کل رقم 45000 کروڑ سے زیادہ ہے۔