کرناٹک میں کانگریس کو شکست دینے کے سی آر کا خفیہ معاہدہ: ریونت ریڈی

   

بی جے پی کو شکست دینے کیلئے گجرات میں مقابلہ کیوں نہیں کیا
حیدرآباد۔/18 جنوری، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے بی جے پی کی مخالفت سے متعلق کے سی آر کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور سوال کیا کہ اگر بی جے پی کی مخالفت کرنی تھی تو پھر حالیہ گجرات اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کیوں نہیں کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر کے سی آر واقعی بی جے پی پر ناراض ہیں اور نریندر مودی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو پھر انہوں نے اُتر پردیش میں اکھلیش یادو کی مدد کیوں نہیں کی۔ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ دہلی میں اروند کجریوال کی مدد کیوں نہیں کی گئی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کھمم ریالی میں شریک قائدین ڈی راجا، پی وجین، اروند کجریوال اور بھگونت مان نے صرف کانگریس اور بی جے پی پر تنقید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کا سہرا کانگریس پارٹی کے سر جاتا ہے جس نے 245 ٹی ایم سی گنجائش والا ناگرجنا ساگر ڈیم تعمیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر گاؤں کو بجلی کی فراہمی کانگریس کا کارنامہ ہے۔ کانگریس نے غریبوں کو تعلیم کا انتظام کیا اور مجالس مقامی میں خواتین کو 50 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے۔ انہوں نے کالیشورم پراجکٹ میں بے قاعدگیوں کے مسئلہ پر حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی تشکیل دینے کے سی آر کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹرکے انتخابی حلقہ گجویل میں پینے کے پانی کی قلت ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے کرناٹک کے قائدین کو 500 کروڑ کا پیشکش کیا تاکہ کانگریس کو شکست دی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں کرناٹک میں کانگریس 130 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے ایک لیڈر سے کے سی آر نے 30 نشستوں پر کانگریس کو شکست دینے کا معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی سے کے سی آر کو کیا تکلیف ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے حقیقی کردار سے واقف ہونے کے بعد ایچ ڈی کمارا سوامی نے کھمم ریالی میں شرکت نہیں کی۔ر