کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی، گاندھی بھون میں جشن،مٹھائیوں کی تقسیم، بڑے پیمانے پر آتشبازی، بیانڈ باجہ

   

حیدرآباد ۔ 13 مئی (سیاست نیوز) کرناٹک میں کی واضح اکثریت سے کامیابی پر تلنگانہ کانگریس کیڈر میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہوا ہے۔ کانگریس کے ہیڈکوارٹر گاندھی بھون میں کانگریس قائدین و کارکنوں نے زبردست جشن منایا۔ بڑے پیمانے پر آتشبازی کی گئی اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ بیانڈ باجہ بجاتے ہوئے رقص کیا گیا۔ کانگریس پارٹی زندہ آباد راہول گاندھی۔ پرینکا گاندھی زندہ آباد کے نعروں سے گاندھی بھون گونج اٹھا۔ اس جشن میں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری فیروز خان، آل انڈیا یوتھ کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری انیل کمار یادو، سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر محمد سلیم، صدر تلنگانہ مہیلا کانگریس کمیٹی سنیتاراؤ، کانگریس کے سینئر قائد ایس محمد واجد حسین کے علاوہ دوسرے قائدین جشن میں شریک ہوئے فیروزخان نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میںکانگریس کی کامیابی کے بعد جنوبی ہند میں بی جے پی کیلئے دروازے بند ہوگئے۔ ریاست میں جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے یہی نتائج برآمد ہوں گے۔ بی آر ایس حکومت سے عوام بدظن ہوچکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔ کانگریس پارٹی عوامی توقعات کو پورا کرے گی۔ پرینکا گاندھی کا یوتھ ڈیکلریشن متاثرکن ہے۔ عوام بالخصوص نوجوان کانگریس پارٹی پر مکمل بھروسہ کا اظہار کررہے ہیں۔ سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر محمد سلیم نے کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کو راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کی جیت نریندرمودی، امیت شاہ اور ہندوتوا طاقتوں کی شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی نے سیکولرازم اور ترقی، تعلیم اور روزگار کی بات کہی ہے۔ وہیں وزیراعظم مودی نے منی پور تشدد، جموں و کشمیر میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثہ کے علاوہ دیگر اہم امور کو نظرانداز کرتے ہوئے رام، بجرنگ بلی، فلم دی کیرالا اسٹوری کی تشہیر کرتے ہوئے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے لیکن کرناٹک کے عوام نے کانگریس پارٹی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ کرناٹک میںکانگریس کیلئے جو نتائج برآمد ہوئے وہی نتائج آئندہ انتخابات میں تلنگانہ میں آئیں گے اور کانگریس پارٹی بی آر ایس اور بی جے پی دونوں کو شکست دیتے ہوئے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ن