کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے باوجود حالات نہیں بدلیں گے

   

ملک میں تبدیلی کے انقلاب کی ضرورت، تلنگانہ ماڈل کی ملک بھر میں مانگ، ناندیڑ میں دو روزہ ٹریننگ کیمپ سے کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد۔19۔مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی سے کوئی تبدیلی آنے والی نہیں ہے۔ کرناٹک کے نتائج کے بارے میں لوگ بہت کچھ کہہ رہے ہیں ۔ الیکشن میں بی جے پی کو شکست ہوئی اور کانگریس پارٹی نے جیت حاصل کی لیکن کرناٹک میں بدلنے والا کچھ نہیں ہے ۔ گزشتہ 75 برسوں سے ملک کے عوام اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں اور قائدین کامیابی حاصل کرتے ہیں لیکن ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ کانگریس کو کئی دہوں تک ملک میں اقتدار حاصل ہوا لیکن عوام کی توقعات کے مطابق تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ ملک کی موجودہ ترقی فطری ہے اور یہ کسی پارٹی کی دین نہیں۔ ترقی اور فلاح و بہبود تو عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہونی چاہئے۔چیف منسٹر کے سی آر آج ناندیڑ میں مہاراشٹرا کے تمام 288 اسمبلی حلقہ جات سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس قائدین کے دو روزہ ٹریننگ کیمپ سے افتتاحی خطاب کر رہے تھے۔ مہاراشٹرا میں پارٹی کی توسیع اور دیہاتوں کی سطح تک پارٹی کمیٹیوں کی تشکیل کے لئے دو روزہ ٹریننگ کیمپ منعقد کیا گیا۔ بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر نے کہا کہ ان کی پارٹی ملک بھر میں تبدیلی چاہتی ہے اور مہاراشٹرا سے اس کا آغاز ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ منافرت کی سیاست کا خاتمہ بی آر ایس کا بنیادی مقصد ہے۔ انتخابات میں دولت اور شراب کی تقسیم کا رواج ختم ہونا چاہئے۔ کے سی آر نے کہا کہ ملک میں تبدیلی کے نعرہ کے ساتھ بی آر ایس میدان میں آئی ہے اور یہ کام آسان نہیں ہے۔ تلنگانہ ماڈل کو ملک بھر میں پسند کیا گیا ہے اور ہر ریاست میں تلنگانہ ماڈل کے نفاذ کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ کے سی آر نے مہاراشٹرا کے قائدین کو مواضعات کی سطح پر 9 مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کا مشورہ دیا جن میں پارٹی کمیٹی کے علاوہ کسان، یوتھ ، مہیلا ، او بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی ، میناریٹی اور اسٹوڈنٹس کی کمیٹیاں شامل رہیں۔ ایک گھنٹہ طویل اپنے خطاب میں کے سی آر نے ملک کے موجودہ حالات کا تجزیہ کیا اور کہا کہ عزم مصمم ہو تو تبدیلی ممکن ہے۔ تبدیلی کے بغیر ہندوستان ترقی نہیں کرسکتا اور یہی ہم نے 75 سال کے تجربہ میں سیکھا ہے ۔ انتخابات میں پارٹیوں اور قائدین کی جیت نہیں بلکہ عوام کی جیت ہونی چاہئے ۔ بی آر ایس عوام کو جتانا چاہتی ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی ملک کے دارالحکومت نئی دہلی میں بجلی اور پانی کی قلت ہے جو شرم کی بات ہے ۔ مہاراشٹرا کے کئی علاقے آج بھی پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ کسانوں کی خودکشی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ ملک میں کسی بھی پارٹی میں تبدیلی کا جذبہ نہیں ہے، لہذا بی آر ایس نے عوام میں اس جذبہ کو پیدا کرنے کی ٹھان لی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ آزادی کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچے ہیں۔ تبدیلی کا نعرہ انتخابی فائدہ کیلئے نہیں بلکہ عوام اور ملک کی بھلائی کیلئے ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک میں کسانوں کی کوئی عزت نہیں ہے ؟ آخر ان کا استحصال کب تک جاری رہے گا۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے قبل بجلی ، پانی اور دیگر مسائل کا سامنا تھا لیکن 7 برسوں میں تلنگانہ ملک کی ماڈل ریاست بن چکی ہے ۔ ہر گھر میں نل کنکشن ہے اور غریبوں کو ایک روپیہ میں کنکشن فراہم کیا گیا۔ کے سی آر نے کہا کہ مہاراشٹرا کے 75,000 دیہاتوں اور 5,000 میونسپل وارڈس اور ڈیویژنس میں پارٹی کی تشکیل کا کام شروع کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک موجودہ پارٹیوں اور قائدین سے تھک چکا ہے اور عوام کو تبدیلی کا انتظار ہے ۔ مہاراشٹرا سے کسانوں کے انقلاب کا آغاز ہوگا۔ ملک میں تبدیلی کے انقلاب کی قیادت مہاراشٹرا کرے گا ۔ کے سی آر نے بتایا کہ 22 مئی سے 22 جون تک گاؤں گاؤں پہنچ کر بی آر اے ایس کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے بعد جو پارٹی عوام کی توقع کے مطابق کام نہیں کرے گی ، اسے رائے دہندے اکھاڑ پھینکیں گے ۔ ر