کرناٹک میں گاؤ کشی قانون کے نفاذ سے لاقانونیت میں اضافہ ہوگا

   

بی جے پی حکومت کی پالیسیاں ، ہجومی تشدد کو ہوا دیں گی ۔ معیشت کی تباہی کا امکان
بنگلورو :۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کرناٹک اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے گاؤ کشی بل 2020 کو منظوری دے دی ہے ۔ اب اسے کونسل میں پیش کیا جانا باقی ہے ۔ گاؤ کشی بل 2020 کے متعلق بات کرتے ہوئے جمعیت قریش کرناٹک کے رکن قاسم شعیب الرحمن قریشی نے بتایا کہ بی جے پی کے ذریعہ لایا گیا یہ قانون غیر آئینی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ قانون کے نفاذ سے لاکھوں لوگ جو اس کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں وہ بے کار محض ہوجائیں گے اور اس سے ریاست کی ایک بڑی آبادی کی معیشت تباہ ہوگی ۔ شیعب الرحمن قریشی نے مزید بتایا کہ گاؤ کشی قانون 2020 میں جو دفعات ہیں ان سے قانونی نظام درہم برہم ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون سے کرناٹک میں لاقانونیت میں اضافہ ہوگا اور ہجومی تشدد کو ہوا ملے گی ۔ اس بل کے خلاف اپوزیشن کانگریس اور جے ڈی ایس نے شدید مخالفت کی تھی اور احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا تھا ۔ سابق چیف منسٹر اور اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے کہا کہ ایوان میں کسی نئے بل کو پیش نہیں کیا جائے گا ۔ لیکن حکومت نے اپنی من مانی کی ہے ۔ کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ بی جے پی یہ نا سمجھے کہ گاؤ کشی کا معاملہ صرف اقلیتوں کا ہے یہ مسئلہ اصل میں پوری کسان برادری کا ہے ۔ اس قانون کے ذریعہ حکومت کسانوں کو ہراساں کررہی ہے ۔۔