کرناٹک میں 4 فیصد تحفظات کی منسوخی سے مسلمانوں میں بے چینی

   

فیصلہ پر نظرثانی کرنے چیف منسٹر سے حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی سجادہ نشین کی اپیل

گلبرگہ۔ 2اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حضرت ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی صاحب قبلہ سجادہ نشین بارگاہ بندہ نواز گلبرگہ نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ جناب بسوارج بومائی کی قیادت میں ریاست کرناٹک ترقی کی راہوںپر گامزن رہی ہے ۔حکومت نے حال ہی میں جو اقدامات کئے ہیں میں اس جانب وزیر اعلیٰ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کیوں کہ ایک حالیہ اقدام سے کرناٹک کے مسلمانوں میں بے چینی کی سی لہر دوڑ گئی ہے۔ کرناٹک کے مسلمانوں کے لئے مختص کردہ4فی صد تحفظات ریاستی کابینہ نے منسوخ کردئے ہیں اور انھیں اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے زمرہ میں ڈال دیا گیا ہے ۔ جس کے سبب مسلمانوں کے لئے تعلیم اور ملازمتوں میںفوائید کا حصول کٹھن ہوگیا ہے۔ ریاست میں مسلمانوںکی تعلیمی و اقتصادی حالت کافی خستہ ہے۔ ریزرویشن کا اطلاق ان تینوں شعبوں میںکمزور طبقات کے لئے ہی ہوتاہے۔ چنانچہ 4فیصد ریزرویشن کا جو سہارا مسلمانوںکوتھا اس سے انھیں اپنی آنے والی نسل کواعلیٰ تعلیم دلوانے اور حصول ملازمت میں سہولت ہوتی تھی ۔ ان سے سہارے چھین لئے جانے کے بعد مسلمانوں کو جو پہلے ہی ان تینوں شعبوں میں کافی کمزور ہیں ترقیکی سطح پر لانے میں کافی دشواریاں پیش آسکتی ہیں ۔ میری ریاستی وزیر اعلیٰ سے ہمدردانہ درخواست ہے کہ وہ اس فیصلہ پر نظر ثانی فرمائیں اور مسلمانوں کے لئیسابقہ ریزرویشن کو بحال کرنیکیاحکامات جاری کریں تاکہ وہ پہلے کیطرح ریاست کی ترقی و ترویج میں اپنا ہاتھ بٹا سکیں ۔