کرناٹک نتائج: تلنگانہ کے مسلمانوں میں تبدیلی کی خاموش لہر

,

   

مجلس کے موقف میں اچانک تبدیلی، کے سی آر کی تائید پر سوالیہ نشان، کانگریس قیادت سے بات چیت کے اشارے

رشیدالدین
حیدرآباد۔/30 مئی: کرناٹک میں مسلم رائے دہندوں کے شعور بیداری مظاہرہ نے تلنگانہ میں برسراقتدار بی آر ایس کے حلقوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ مسلمانوں کی تائید کو پیٹنٹ رائیٹ سمجھنے والے کے سی آر اور ان کے حلیف بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ اسمبلی چناؤ میں اس مرتبہ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ کرناٹک کے مسلمانوں نے نہ صرف تلنگانہ بلکہ دیگر ریاستوں کے مسلمانوں کو اپنے حقوق منوانے کے معاملہ میں نئی راہ دکھائی ہے۔ کرناٹک کے نتائج کے ساتھ ہی تلنگانہ میں غیر محسوس طریقہ سے تبدیلی کی لہر دیکھی جارہی ہے جس سے نہ صرف بی آر ایس بلکہ ان کی حلیف مجلس کی قیادت اُلجھن کا شکار ہے۔ اگرچہ اسمبلی انتخابات کیلئے 4 ماہ کا وقت باقی ہے لیکن مسلمانوں نے اپنے طور پر مسلم ایجنڈہ کی تیاری کا کام انفرادی سطح پر شروع کردیا ہے تاکہ انتخابات میں کسی بھی پارٹی کی اندھی تائید کے بجائے مسائل کی بنیاد پر تائید یا مخالفت کا فیصلہ کیا جائے۔ کرناٹک میں مسلم تنظیموں نے متحدہ طور پر اس کی مساعی کی تھی لیکن تلنگانہ میں مسلم جماعتوں اور تنظیموںکا کوئی معتبر اور قابل بھروسہ پلیٹ فارم دکھائی نہیں دیتا۔ باوجود اس کے عام مسلمانوں میں انفرادی سطح پر اس بات کی مہم چل رہی ہے کہ بی آر ایس کے 9 سالہ ریکارڈ کی بنیاد پر الیکشن میں تائید کا فیصلہ کیا جائے۔ مسلمانوں کیلئے کانگریس پارٹی متبادل کے طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ عام مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ کے سی آر نے تلنگانہ تحریک کے دوران مسلمانوں کو ہتھیلی میں جنت دکھائی تھی اور حکومت کی تشکیل کے بعد 9 سال تک صرف وعدوں اور تیقنات سے کام لیا۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل کیلئے کوئی سنجیدہ مساعی نہیں کی گئی۔ ان حالات میں تلنگانہ کے مسلمان بھی کرناٹک کی طرح سیاسی متبادل کے طور پر کانگریس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مسلمانوں میں جاری اس خاموش مہم کا اثر حکومت کی دیرینہ حلیف مجلس پر بھی پڑا ہے۔ عوامی رائے کی مخالفت کے بجائے مجلسی قیادت نے حکومت کے بارے میں اپنے تائیدی موقف پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے کھلے عام یہ پیام دینے کی کوشش کی ہے کہ آئندہ الیکشن میں بی آر ایس کی تائید نہیں کی جائے گی۔ عوام میں تبدیلی کی لہر کا اثر یہ ہوا کہ مجلسی قیادت نے اضلاع کے دوروں کا آغاز کرتے ہوئے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل پر کے سی آر کو کھل کر نشانہ بنایا اور غیر محسوس طریقہ سے وارننگ بھی دی کہ اگر مسائل حل نہیں کئے گئے تو’’ اسٹیرنگ کے ذریعہ گاڑی کا حادثہ بھی کیا جاسکتا ہے‘‘ ۔ مجلسی قیادت کی اس وارننگ کا مقصد مسلمانوں کو اپنے ساتھ برقرار رکھنا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں اگر کوئی بھی پارٹی بی آر ایس کی تائید کا اعلان کرے گی تو اسے مسلمانوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مجلسی قیادت اور بطور خاص صدر مجلس اسد اویسی نے عام جلسوں سے خطاب کے دوران اضلاع
میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ان کی پارٹی روایتی حلقوں کے علاوہ بھی اضلاع میں امیدوار کھڑا کرسکتی ہے۔ کرناٹک کے نتائج اور مسلمانوں کی حکمت عملی کے اثر کے تحت مجلسی قیادت نے اخبارات کو انٹرویو میں کے سی آر حکومت کی کارکردگی کی ستائش سے گریز کیا۔ حلیف جماعت کی بدلتی حکمت عملی اور کے سی آر کے بارے میں محتاط ردعمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کے مطابق مجلس بھی فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔ مسلمانوں کی رائے کے برخلاف قدم اٹھانے پر پرانے شہر میں روایتی حلقوں پر اثر پڑسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلسی قیادت نے اضلاع کے دوروں کے ذریعہ کے سی آر سے ناراض مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کی مہم شروع کی ہے تاکہ الیکشن سے عین قبل کانگریس سے مسلم ایجنڈہ اور مسلمانوں کے مسائل پر بات چیت کی جاسکے۔ الغرض کرناٹک میں مسلمانوں کی کامیاب حکمت عملی نے تلنگانہ میں مسلمانوں کی قیادت کے دعویداروں کوکے سی آر سے مسلمانوں کے مسائل پر سوال کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مسلمانوں میں کے سی آر حکومت کے بارے میں پائی جانے والی ناراضگی نے مجلسی قیادت کو بھی اپنے موقف میں تبدیلی کیلئے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ اگر مسلمانوں میں تبدیلی کا رجحان جاری رہا تو عین ممکن ہے کہ مجلسی قیادت کے سی آر کی ناکامیوں سے خود کو علحدہ کرتے ہوئے کانگریس کے حق میں فیصلہ کرسکتی ہے یا پھر یا پھر غیر جانبدار موقف اختیار کرتے ہوئے فیصلہ مسلمانوں پر چھوڑ دیا جائے گا۔