مسلم لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کرنے کی سازش کے خلاف جمہوری حق کا استعمال ضروری
…سید جلیل ازہر…
نرمل۔ آج سارے ملک میں تعلیم کا تناسب دیکھا جائے تو لڑکوں پر لڑکیوں کو سبقت حاصل ہے۔ مسلم لڑکیاں بہت تیزی سے تعلیمی میدان میں اپنے علاقہ اور خاندانوں کا نام روشن کررہی ہیں۔ تاہم بڑے افسوس کی بات ہے کہ متعصب ذہنیت کے حامل افراد طالبات کو علمی اداروں میں داخلہ سے روکتے ہوئے ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کررہے ہیں۔ آج کرناٹک کے اسکولوں میں حجاب لگاکر آنے والی طالبات کو اس کالج میں داخل ہونے سے روکا گیا جس کے بعد ہر علاقہ میں یہ واقعات پر زبردست تبصرے دیکھنے کو مل رہے ہیں جب کہ قابل مبارکباد ہیں وہ لڑکیاں جنھوں نے اسکول انتظامیہ کو حجاب پر ہی اسکول میں داخل ہونے پر بضد رہیں۔ آج سارے ملک کی نفرت کے ماحول کی متعصب ذہنیت کے لوگ آبیاری کررہے ہیں۔ کوئی نہ کوئی مسئلہ کو لے کر ملک کے ماحول کو بگاڑنے کی منظم سازشیں ہورہی ہیں۔ ایسے ماحول میں بھی لڑکیوں نے حجاب کے تعلق سے جو ردعمل کا اظہار کیا ہے، وہ ان کی بہادری اور ہمت کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہے۔ بہت ضروری تھا کہ کرناٹک کی طالبات نے اپنے حوصلہ اور ہمت کے ذریعہ سارے ملک کی لڑکیوں کو ایک پیام دیا ہے۔ کیونکہ ’’بخار کو روکنے کے لئے ضروری ہے نزلہ و زکام روکو‘‘۔ اس لئے کہ انسان آج تک ایسا کچرادان نہیں بناسکا جس میں نفرتیں، عداوتیں، تعصب اور جہالت پھینک سکے۔ یاد رکھو تنگ دستی، غریبی اور مفلسی کا قتل کرنے والی ایک ہی تلوار ہے ’’تعلیم‘‘۔ اگر حجاب کو لے کر نئی نسل کی لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے کی ناپاک کوشش کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے جمہوری حق کے لئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ کیونکہ اگر اس عمل کو کرناٹک میں نہیں روکا گیا تو کل اس بیماری کا پھیلاؤ دوسری ریاستوں میں بھی ہوسکتا ہے۔ کرناٹک کی حکومت کو گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے مسلم لڑکیوں کے حجاب کی مخالفت سے اپنے فیصلہ کو واپس لے لینا چاہئے، کیونکہ کوئی بھی مذہب ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کے جذبات کا احترام نہیں کرتے، وہاں عزت کا معیار علم کردار اخلاق نہیں رہتا۔
