غیرقانونی تارکین وطن کی شناخت نفاذ کا مقصد ، بنگلورو میں بنگلہ دیشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویشناک
بنگلورو۔3اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کرناٹک کی بی جے پی حکومت قومی رجسٹر برائے شہریت قانون کے ریاست میں نفاذ پر غور کررہی ہے ۔ ریاستی وزیر داخلہ بسوا راج بومائی نے جمعرات کے دن اس کا انکشاف کیا ۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک گیر سطح پر این آر سی کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں سرحد پار سے لوگ آرہے ہیں اور سکونت پذیر ہورہے ہیں جس کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس لئے ہم تمام معلومات فراہم کررہے ہیں تاکہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے تبادلہ خیال کر کے پیشرفت کی جاسکے ۔ وہ بنگلورو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ این آر سی کے نفاذ کی مشق ملک گیر سطح پر کی جائے گی اور ملک سے تمام غیرقانونی تارکین وطن کو قانونی ذرائع استعمال کرتے ہوئے خارج کردیا جائے گا ۔ ممتا بنرجی نے عہد کیا ہے کہ اپنی ریاست میں این آر سی قانون کے نفاذ کی اجازت نہیں دیں گی ۔ چہارشنبہ کے دن بومائی نے حاویری میںایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ اب تک این آر سی کے نفاذ پر غور کے لئے دو اجلاس منعقد کی جاچکے ہیں اور چند ریاستوں میں قانون نافذ کیا جاچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں سینئر عہدیداروں سے قانون کا جائزہ لینے کی خواہش کرچکا ہوں ۔ بنگلورو اور دیگر بڑے شہروں کے ماہرین اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ غیرملکی بڑے شہروں کو آرہے اور یہاں سکونت اختیار کررہے ہیں۔ کسی علم و اطلاع کے بغیر جرائم میں ملوث ہورہے ہیں۔
ان میں سے چند کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ( این آر سی کے بارے میں ) واضح فیصلہ کریں گے ۔ جب اپوزیشن کی حیثیت سے بی جے پی اپنی آواز بڑھتے ہوئے بنگلہ دیشی تارکین وطن کی تعداد کے خلاف بنگلورو میں آواز اٹھاتی رہی ہے ۔ آسام واحد ریاست ہے جہاں این آر سی نافذ کیا جاچکا ہے اور 19لاکھ سے زیادہ افراد کے نام این آر سی کی قطعی فہرست میں جو 31اگست کو شائع ہوچکی ہے حذف کئے گئے ہیں۔ ان میں تقریباً 12لاکھ افراد ہندو ہیں ۔ این آر سی قومی صیانت کیلئے ضروری ہے اور اسے نافذ کیا جائے گا ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مبینہ طور پر کولکتہ میں اس بات کا انکشاف کیا تھا اور واضح کردیا تھا کہ ہندو ، سکھ ، جین اور بدھ مت کے پیرو پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت عطا کی جائے گی ۔ قانون شہریت ( ترمیمی ) بل ہنوز منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ حکومت ہند کا ادعا ہے کہ وہ ایک سیکولر حکومت ہے لیکن پناہ گزین شہریوں میں مذہب کی بنیاد پر فرق و امتیاز کیا جارہا ہے ۔ چنانچہ مسلمان پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت عطا کرنے کا حکومت ہند نے کوئی تیقن نہیں دیا ہے ۔ صرف ہندو ، سکھ ، جین مت اور بدھ مت کے پیرو غیر ملکی پناہ گزینوں کو ہندوستان کی شہریت عطا کرنے کا تیقن دیا گیا ہے جو واضح طور پر مذہب کی بنیاد پر ہے ۔
