کاروبار سے مسلمانوں اور راجستھانی مارواڑی طبقہ کو روکا جارہا ہے
کورٹلہ ، مٹ پلی ، جگتیال میں ہراسانی عام
حیدرآباد ۔ 3 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کے خلاف ہراسانیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے ہر مسئلہ کو ہندو مسلم کرتے ہوئے سیاسی فائدے اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ دوسری طرف حکمران ٹی آر ایس بھی ہندوتوا کا نرم رویہ اپنا رہی ہے ۔ صبح مسلمانوں کو خوش کیا جارہا ہے تو شام میں ہندوؤں کو خوش کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک کے بعد تلنگانہ جنوبی ہند کے اترپردیش میں تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے ۔ تلنگانہ میں مسلمانوں اور راجستھانی و مارواڑی طبقہ کو کاروبار کرنے سے ایک منصوبہ بند طریقہ سے روکا جارہا ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے تمام ہول سیل بزنس (کاروبار ) تلگو طبقہ کے ہاتھ سے نکل کر راجستھانی طبقہ کے ہاتھ میں چلا گیا ہے ۔ چند ماہ قبل رامائن پیٹ میں راجستھانی اور مارواڑی طبقہ کے خلاف احتجاج ہوا تھا ۔ اب کریم نگر کے کورٹلہ میں ایک مسلمان تاجر کو جویلری شاپ لگانے سے روکا جارہا ہے ۔ مقامی سناروں نے مسلم تاجر کے خلاف احتجاج کیا اور اس احتجاج میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کو مدعو کیا گیا جو حلقہ لوک سبھا نظام آباد کی نمائندگی کرتے ہیں تاہم پولیس نے لا اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنے ڈی اروند کو کورٹلہ میں روکتے ہوئے انہیں نظام آباد لوٹا دیا ۔ پولیس کی اس کارروائی پر اروند نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ منور فاروقی کو سیکوریٹی فراہم کی جارہی ہے اور انہیں واپس بھیجا جارہا ہے ۔ گذشتہ 15 دن سے متحدہ ضلع کریم نگر بالخصوص مٹ پلی ، کورٹلہ اور جگتیال میں پولیس کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو پولیس اسٹیشن طلب کرتے ہوئے انہیں اور ان کے ارکان خاندان کو ہراساں و پریشان کیا جارہا ہے ۔ پولیس اسٹیشن میں ان نوجوانوں کی تصویر کشی کی جارہی ہے ۔ ان سے آدھار کارڈس کے علاوہ دوسری تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے مسلم محلوں میں خوف و دہشت پیدا کی جارہی ہے ۔ جب مقامی مسلم شخصیتوں کی جانب سے ان کے اسمبلی حلقہ کورٹلہ کی نمائندگی کرنے والے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی کے ودیا ساگر سے شکایت کی گئی تو انہوں نے سرکل انسپکٹر کو ہدایت دی کہ وہ غیر ضروری مسلم نوجوانوں کو ہراساں نہ کریں باوجود اس کے پولیس کی جانب سے مقامی نوجوانوں کو ہراسانی کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ پولیس کی ان ہراسانیوں سے ان تینوں مقامات کے مسلمانوں میں خوف و دہشت پائی جاتی ہے ۔ پاپلر فرنٹ آف انڈیا سے تعلقات رکھنے کے الزامات میں مسلمانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔ جب کہ پاپلر فرنٹ آف انڈیا کوئی ممنوعہ تنظیم نہیں ہے باوجود اس کے پولیس کی ہراسانیاں جاری ہیں ، جس پر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر ، وزیر داخلہ محمد محمود علی اور ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی کو سخت نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔۔ ن