کرناٹک کے بعد تلنگانہ میں رام اور ہنومان کا نعرہ

   

بی جے پی کی حکمت عملی، 14%اقلیتوں کو سوچ سمجھ کر ووٹ دینا ہوگا

کرناٹک میں ناکامی پالیسی میں تبدیلی پر مجبور کرسکتی ہے

حیدرآباد8 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی جے پی کیلئے ہندوتوا ایجنڈہ فائدہ مند ثابت ہوگا یا نہیں !کرناٹک انتخابات میں بی جے پی نے ہندو تو ایجنڈہ کو فروغ دیتے ہوئے انتخابی مہم کے دوران جو حکمت عملی اختیار کی ہے اب کرناٹک کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی کی حکمت عملی و منصوبہ بندی پر بحث شروع ہوچکی ہے اور کہا جار ہاہے کہ پارٹی تلنگانہ میں بھی کامیابی کیلئے ہندوتوا ایجنڈہ کو فروغ دینے کی کوشش کر یگی۔ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات سے قبل ماہرین کی پیش قیاسی کے مطابق بی جے پی تلنگانہ میں بھی ہندوتوا نظریات کو فروغ دے کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر ے گی جبکہ بی آر ایس سے تلنگانہ جذبات کو ابھارکر ہندوتوا نظریات کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی علاوہ ازیں بی آر ایس قائدین اپنی کارکردگی اور تلنگانہ ماڈل کو پیش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تلنگانہ میں جہاں 85.09 فیصد ہندو ہیں انہیں دونوں جماعتیں راغب کرنے کوشش کر رہی ہیں جبکہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی اعداد و شمار کے مطابق 12.9 فیصد ہے اور عیسائی آبادی 1.87فیصد ہے ۔ بی جے پی پارٹی اگر تلنگانہ میں ہندوتوا نظریات پر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ریاست کے 14فیصد اقلیتی ووٹ بی جے پی سے دور ہوجائیں گے جبکہ گذشتہ برسوں میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کا دعویٰ ہے کہ ایک سیکولر جماعت ہے جبکہ سینیئر قائدین بی جے پی کو ہندوتوا جماعت قراردیتے ہیں۔ تلنگانہ انتخابات سے قبل اگر ہندو توا ایجنڈہ پر کام کرتی ہے تو اس کے نتیجہ میں پارٹی کو ایٹالہ راجندر جیسے قائدین سے محروم ہونا پڑسکتا ہے جو بائیں بازو نظریات کے کے باوجود بی جے پی کو سیکولرقرار دیتے ہوئے شامل ہوئے ہیں۔ اسی طرح کئی قائدین ہیں جو کہ سیکولر کردار کے باوجود پارٹی میں ہیں وہ پارٹی کے ایجنڈہ کی حمایت نہیں کرینگے۔ تلنگانہ میں فرقہ وارانہ خطوط پر ان حلقوں میں ووٹرس کو منقسم کیا جاسکتا ہے جہاں مسلم ووٹر کی تعداد زیاد ہے لیکن تمام حلقہ جات میں ایسی تفریق بی جے پی کیلئے کارگر ثابت نہیں ہوسکتی۔ ذرائع کے مطابق پارٹی ریاست میں فرقہ وارانہ تقسیم کی کوشش پر بی آر ایس کی جانب سے تلنگانہ جذبات اور تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں کو موضوع بناکر بی جے پی کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تجزیہ نگاروں کے ایک طبقہ کا یہ بھی کہناہے کہ جنوبی ریاستوں بالخصوص تلگو ریاستوں میں انتخابات میں مذہب سے زیادہ طبقہ اور ذات کو فوقیت ہوتی ہے اسی لئے بی جے پی ہندو توا نظریات سے زیادہ طبقہ واری سیاست اور قائدین پر توجہ مرکوز کریگی ۔بی جے پی اس منصوبہ پر عمل کرسکتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ پارٹی تلنگانہ میں مختلف طبقات کے قائدین کو پارٹی میں شامل کروانے کوششوں میں مصروف ہے اور دلت قائدین بھی بی جے پی میں شامل ہوکر پارٹی کو مستحکم کر رہے ہیں اسی لئے ہندو تو ایجنڈہ پر عمل کے امکانات محدود ہیں۔