کرناٹک ہائیکورٹ کا فیصلہ دستور کی خلاف ورزی: یونائٹیڈ مسلم فورم

   

حیدرآباد۔16۔ مارچ (سیاست نیوز) یونائٹیڈ مسلم فورم نے حجاب کی پابندی سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔ فورم نے فیصلہ کو دستور میں دئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا ۔ فورم کے ذمہ دار جناب رحیم الدین انصاری ، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی ، مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری شطاری ، مولانا قطب الدین علی چشتی ، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن ، مولانا مفتی صادق محی الدین ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جناب ضیا الدین نیر ، جناب سید منیرالدین احمد مختار ، مولانا مسعود حسین مجتہدی اور دوسروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ملک میں دستور پر عمل آوری کے پہلے دن یعنی 26 جنوری 1950 ء سے آج تک حجاب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ ڈسمبر 2021 ء میں کرناٹک کے ایک سرکاری کالج کے پرنسپل نے باحجاب طالبات کو روکنے کی منظم سازش کی ۔ ابتداء میں یہ کالج کا معاملہ تھا لیکن سنگھ پریوار کی تنظیموں اور شرپسندوں نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا۔ مسلم طالبات کے عدالت سے رجوع ہونے کے بعد کرناٹک حکومت نے حکمنامہ جاری کرتے ہوئے سرکاری تعلیمی اداروں میں حجاب کے استعمال پر روک لگادی۔ فورم نے دستور کی دفعہ 15 کا حوالہ دیا اور کہا کہ دستور نے ہر شہری کو اپنی پسند کے انتخاب کا حق دیا ہے۔ مسلمانوں بالخصوص مسلم طالبات کو حصول تعلیم سے روکنے اور ان کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ فورم نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ اپنی مذہبی اور تہذیبی شناخت کے تحفظ کیلئے دستور میں دیئے گئے حقوق پر گامزن رہیں۔ر