کرنسی نوٹوں کی سربراہی میں 23.3 فیصد گراوٹ

,

   

آر بی آئی کے اقدامات سے شہریوں کے لین دین کے معاملات میں سست روی کی نشاندہی
حیدرآباد۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے کرنسی نوٹوں کی سربراہی میں 23.3 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملک میں ہوئے لاک ڈاؤن کے سبب ریزرو بینک آف انڈیا کے ذریعہ بینکوں کو سربراہ کی جانے والی کرنسی نوٹوں میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ آر بی آئی سے کرنسی نوٹوں کی سربراہی میں گراوٹ لین دین میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے عمل کی نشاندہی کرتی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ مالی سال 20219-20 کے دوران ریزرو بینک آف انڈیا نے 2000 کے کرنسی نوٹوں کی اشاعت عمل میں نہیں لائی ہے اور جو کرنسی نوٹ موجود ہیں ان کرنسی نوٹوں سے ہی اس مالی سال کے دوران کام چلایا گیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ پر ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ کرنسی کے لین دین میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے سلسلہ میں تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے لیکن یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے مالی سال 2019-2020 کے دوران 2000 کے کرنسی نوٹوں کی اشاعت نہ کئے جانے اور کرنسی نوٹوں کی سربراہی میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ ملک کی معاشی حالت اور شہریوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کر رہی ہے۔ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد ریزرو بینک آف انڈیا نے 2000 کی کرنسی نوٹ بازار میں لائے تھے اور اس کے بعد سے ہی یہ کہا جا رہاتھا کہ حکومت کی جانب سے 2000 کے کرنسی نوٹ کو بازار سے واپس لینے کے اقدامات کئے جائیں گے اور ان کی اشاعت کو بند کردیا جائے گا لیکن سال 2019-20 کے دوران 2000 کے کرنسی نوٹوں کی اشاعت نہ کئے جانے اور کرنسی سربراہی میں 23.3 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کے متعلق کہا جا رہاہے کہ لاک ڈاؤن اور رقمی لین میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔