کرنل صوفیہ کی توہین پر حکومت خاموش کیوں ہے ؟

,

   

مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ پر مقدمہ چلانے کا دو ہفتے میں فیصلہ کرنے سپریم کورٹ کی ہدایت

نئی دہلی : /20 جنوری (ایجنسیز) مدھیہ پردیش میں ’آپریشن سندور‘ کے دوران کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے معاملے میں بی جے پی وزیر کنور وجئے شاہ کے خلاف تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، تاہم ریاستی حکومت کی جانب سے مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دینے پر سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیا ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت میں بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے اگست 2025 میں تحقیقات مکمل کر لی تھیں اور استغاثہ سے مقدمہ چلانے کی اجازت طلب کی گئی تھی، مگر حکومت کی خاموشی قابلِ اعتراض ہے۔عدالت نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ حساس معاملوں میں بروقت فیصلے کرے اور کسی بھی قسم کی لاپروائی نہ کرے۔ چیف جسٹس نے براہ راست سوال کیا کہ آیا SIT نے رپورٹ پیش کر دی ہے اور حکومت اب تک خاموش کیوں ہے؟سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر استغاثہ کی منظوری پر فیصلہ کرے اور اپنی تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ ساتھ ہی SIT کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ دیگر پرانے معاملوں کی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ میں شامل کرے یا نہ کرنے کی وجوہات عدالت کے سامنے پیش کرے۔واضح رہے کہ وزیر وجے شاہ نے 11 مئی کو ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کرنل صوفیہ قریشی کو مسلمان ہونے پر کہا تھا کہ ’’دہشت گردوں نے ہماری بہنوں کا سندور مٹایا لیکن مودی جی نے ان ہی کی بہن کو بھیج کر سبق سکھا دیا۔‘‘ اس بیان پر شدید تنقید کے بعد وزیر نے آن لائن معافی مانگی تھی، مگر سپریم کورٹ نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔