کرنول میں مسلمانوں پر شرپسندوں کا حملہ، علاقہ میں کشیدگی

   

جے شری رام کے نعرے لگانے پر زور۔ مقامی مسلمانوں کا شدید احتجاج
حیدرآباد۔ شہر کرنول میں مسلمانوں پر حملہ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد کشیدگی پھیل گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ جے شری رام کا نعرہ دینے کیلئے زور دیتے ہوئے شرپسندوں نے پہلے ایک ضعیف مسلم شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس ضعیف شخص کا بچاؤ کرنے والے حافظ قرآن پر بھی حملہ کیا گیا۔ کرنول کے آٹونگر میںپیش آئے اس واقعہ کے بعد مقامی مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوگئی اور مسلمانوں کی کثیر تعداد نے فور ٹاؤن پولیس اسٹیشن پہنچ کر احتجاج درج کروایا۔ کرنول میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے اس واقعہ کی سخت انداز میں مذمت کی اور فرقہ پرست طاقتوں کو انتباہ دیاکہ گنگا جمنی تہذیب کو بگاڑنے کی کسی بھی حرکت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور ان فرقہ پرست طاقتوں کا قانون کے ذریعہ تعاقب کیا جائے گا۔ حملہ کا شکار حافظ عقیل نے بتایا کہ جب وہ رات آٹو نگر کے علاقہ سے گذررہے تھے تو ایک ضعیف شخص کو چند افراد کی جانب سے ہراساں کیا جانے کا منظر دیکھا اور جب وہ بچاؤ کیلئے پہنچے تو اشرار نے انہیں بھی روک دیا اور ان کی موٹر سائیکل کی چابی چھین لی اور جے شری رام کا نعرہ لگانے اور بھارت ماتا کی جئے کہنے پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ حافظ عقیل کی مزاحمت اور ہجوم جمع ہوتا دیکھ کر اشرار فرار ہوگئے۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی قائد عبداللہ خان نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کسی بھی حرکت اور پرامن ماحول میں فرقہ پرستی کازہر گھولنے کی ہر کوشش کو ناکام بنادیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ فرقہ پرستی کے زہر کو سماج میں پھیلنے سے روکے اور پرامن ماحول کو برقرار رکھے۔