رئیل اسٹیٹ تاجرین اور محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کی ملی بھگت
حیدرآباد 11 اگسٹ (سیاست نیوز) ریاست آندھراپردیش کے ضلع کرنول کے مضافاتی علاقہ میں پائی جانے والی انتہائی قیمتی سرکاری و اوقافی اراضیات پر غیر مجاز قبضوں اور ان اراضیات کی غیر مجاز فروخت کے واقعات میں روز بروز اضافہ کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ ریونیو اور محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس عہدیداروں کی مبینہ ملی بھگت کے ذریعہ رئیل اسٹیٹ کاروبار کرنے والے افراد ان اراضیات کو فروخت کرنے میں اپنا اہم رول ادا کررہے ہیں۔ جبکہ سابق تلگودیشم حکومت میں بھی سینکڑوں ایکر سرکاری و اوقافی اراضیات پر غیر مجاز قبضے ہونے بلکہ فروخت بھی ہوچکی ہیں جبکہ اسی دوران بتایا جاتا ہے کہ کلور منڈل کے موضع پندی پاڈو میں انڈس اسکول کے روبرو واقع اوقافی اراضی پر غیر مجاز افراد نے قبضہ کرکے اراضی کی فروخت کے لئے کوشاں ہیں اور اس اراضی پر پلاٹس بناکر فروخت کئے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پندی پاڈو موضع کے سروے نمبر 5-7/A ، 22,94 میں جملہ 21.58 ایکر وقف اراضیات ہیں اور اس اراضی کی موجودگی قیمت فی ایکر پانچ تا چھ کروڑ روپئے ہے۔ اور وقف اراضی ہونے کے باوجود غیر مجاز قبضوں کو دیکھتے ہوئے متعلقہ عہدیدار بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں جبکہ ان غیر مجاز قبضوں کے تعلق سے متعلقہ وقف عہدیداروں کو بھی واقف کروایا گیا لیکن کوئی اقدامات نہ کئے جانے کی وجہ سے قیمتی اوقافی اراضیات رئیل اسٹیٹ کاروباریوں کے ہاتھوں فروخت کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ جولائی میں سب رجسٹرار کلور منڈل نے اپنا تبادلہ ہوجانے کے باوجود جانے سے قبل وقف اراضیات کے غیر مجاز رجسٹریشن کرکے بھاری رقومات حاصل کی ہیں۔ علاوہ ازیں مزید بعض وقف اراضیات کا سروے نمبر تبدیل کرکے مذکورہ سب رجسٹرار نے غیر مجاز طور پر رجسٹریشن کرکے بھاری رقومات حاصل کرنے کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ وقف بورڈ عہدیداروں کی جانب سے اوقافی اراضیات کی صیانت کے لئے اوقافی اراضیات کی نشاندہی کرکے کم از کم انتباہی بورڈس آویزاں کرنے سے بھی گریز کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے غیر مجاز قابضین کو اوقافی اراضی فروخت کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ لہذا اس سلسلہ میں وقف بورڈ آندھراپردیش کے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ اوقافی اراضیات کا تحفظ کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے کا ضلع کرنول کے مسلمانوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا۔
