حیدرآباد۔ 4مارچ (یو این آئی) موذی کرونا وائرس کے پھوٹ پڑنے کے بعد احتیاطی اقدام کے سلسلہ میں صحت کے حکام کی جانب سے جاری کردہ اڈوائزری کے پیش نظر چہروں پر لگائے جانے والے ماسک کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیاہے ۔تمام طرح کی آلودگی کے تحفظ کے لئے لگائے جانے والے اس طرح کے ماسک کی خریداری میں تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں کافی اضافہ ہوگیا ہے ۔عام دنوں میں سرجیکل ماسک جس کا استعمال ڈاکٹرس کرتے ہیں کی قیمت 3تا5روپئے ہوتی ہے تاہم اس کرونا وائرس کے بعد اس کی قیمت 18تا25روپئے کے درمیان ہوگئی ہے ، اس طرح ماسک کی قیمت میں 400گنا کا اضافہ ہوگیا ہے ۔میڈیکل اینڈ سرجیکلس کی دکان کے ایک مالک نے بتایا کہ اس وائرس کے بارے میں پتہ چلنے کے بعد لوگ بڑی تعداد میں اس طرح کے ماسک خرید رہے ہیں اور اس کی کمی ہوگئی ہے ۔ہول سیلرس،سرجیکل ماسک کی پیکٹ 500روپئے میں فروخت کرتے ہیں۔ہر پیکٹ میں 100ماسک ہوتے ہیں۔ ریٹیلرس اس پیکٹ کو خریدتے ہیں تاہم اب ہول سیلرس نے فی پیکٹ 2500روپئے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ اس کی سپلائی میں کمی ہوگئی ہے ۔اس دکاندار نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے ماسک کو مفت تقسیم کرے ۔اسی طرح کے ایک میڈیکل شاپ کے مالک نے کہا کہ لوگ فکرمند ہیں اور اسی لئے وہ تیزی کے ساتھ اس طرح کے ماسک کی خریداری کررہے ہیں۔این۔95ماسک جو قبل ازیں 80تا90روپئے میں فروخت کیا جاتا تھا، اب 200روپئے میں فروخت کیاجارہا ہے ۔لوگ اس طرح کے ماسک کی زیادہ قیمت کے باوجود خریداری کررہے ہیں۔