کسی بھی وائرس کے پھیلنے کے بعد سب سے زیادہ نظر آنے والی تصاویر ڈاکٹروں والے ماسک پہنے لوگوں کی دکھائی دیتی ہیں۔انفیکشن سے بچنے کیلئے ایسے نقاب یا ماسک کا استعمال دنیا کے بہت سے ممالک میں مقبول ہے۔ خاص طور پر چین میں کورونا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کے دوران ان کا استعمال بڑھ گیا ہے جبکہ ایسے ہی ماسک چین میں بڑے پیمانے پر پائی جانے والی فضائی آلودگی سے بچنے کیلئے بھی پہنے جاتے ہیں۔تاہم ماہرین فضا سے پھیلنے والے وائرس سے بچاؤ میں ماسک کے پراثر ہونے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔لیکن کچھ ایسے شواہد ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ماسک وائرس کی ہاتھوں سے منہ تک منتقلی روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔سرجیکل ماسک 18ویں صدی میں ہسپتالوں میں متعارف کروائے گئے مگر عوامی سطح پر ان کا استعمال 1919 میں اس ہسپانوی فلو سے قبل سامنے نہیں آیا جو پانچ کروڑ افراد کی ہلاکت کی وجہ بنا تھا۔برطانیہ کی سینٹ جارج یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر ڈیوڈ کیرنگٹن نے کو بتایا کہ ‘عام استعمال کے سرجیکل ماسک فضا میں موجود وائرس یا بیکٹیریا سے بچاؤ کیلئے بہت پراثر ثابت نہیں ہوئے اور زیادہ تر وائرس اسی طریقے سے پھیلے تھے۔ ان کی ناکامی کی وجہ ان کا ڈھیلا ہونا، ہوا کی صفائی کے فلٹر کی عدم موجودگی اور آنکھوں کے بچاؤ کا کوئی انتظام نہ ہونا تھا۔’لیکن یہ ماسک کھانسی یا چھینک کی رطوبت میں موجود وائرس سے بچاؤ اور ہاتھ سے منہ تک وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کر سکتے تھے۔ 2016 میں نیو ساؤتھ ویلز میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ لوگ ایک گھنٹے میں تقریباً 23 مرتبہ اپنے منہ کو ہاتھ لگاتے ہیں۔پروفیسر جوناتھن بال یونیورسٹی آف ناٹنگھم میں مالیکیولر وائرالوجی کے شعبے سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘ایک ہسپتال کے ماحول میں کی جانے والی محدود تحقیق یا کنٹرولڈ سٹڈی میں فیس ماسک بھی انفلوئنزا کے انفیکشن سے بچاؤ میں اتنا ہی اچھا رہا جتنا اس مقصد کیلئے بنایا جانے والا سانس لینے والا مخصوص آلہ تھا۔’سانس لینے کیلئے بنایا جانے والے اس آلے میں ہوا کو صاف کرنے کے لیے فلٹر لگا ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر اس طریقے سے بنایا جاتا ہے کہ اس سے ممکنہ طور پر فضا میں موجود خطرناک ذرات سے بچنے میں مدد مل سکے۔پروفیسر بال مزید کہتے ہیں کہ ‘بہرحال جب آپ عمومی سطح پر عوام میں ماسک کے فائدے سے متعلق کی گئی تحقیقات کو دیکھتے ہیں تو اعداد وشمار اتنے مثاثرکن نظر نہیں آتے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماسک کو طویل وقت تک استعمال کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ڈاکٹر کونوربیمفرڈ بیلفاسٹ کی کوئینز یونیورسٹی میں تجرباتی ادویات کے انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں صفائی سے متعلق سادہ سی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بہت زیادہ سودمند ہے۔وہ کہتے ہیں ‘جب چھینک آئے تو منہ ڈھکنا، ہاتھ دھونا اور ہاتھ دھونے سے پہلے انھیں منہ پر نہ لگانا ایسے اقدامات ہیں جو سانس کے ذریعے وائرس کی منتقلی روکنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔برطانیہ کے قومی ادرہ صحت کا کہنا ہے کہ فلو پیدا کرنے والے وائرس وغیرہ سے بچنے کیلئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ:ہاتھوں کو گرم پانی اور صابن سے باقاعدگی سے دھویا جائے۔جتنا بھی ممکن ہو اپنی آنکھوں اور ناک کو چھونے سے گریز کریں۔
