بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کو سبقت کا دعوی، اسمبلی اور سکریٹریٹ کی تعمیر پر تبصرے سے گریز
حیدرآباد۔19 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے کارگزار صدر کے ٹی راما رائو نے اسمبلی میں منظور کردہ میونسپل ایکٹ کو غیر معمولی اور عوام کے مفاد میں قرار دیا اور کہا کہ اس قانون کے ذریعہ سیاسی مداخلت کے بغیر عوام کی بہتر خدمت کی جاسکتی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ قانون میں سیاسی مداخلت کو یکساں طور پر ختم کردیا گیا اور مختلف مسائل کے سلسلہ میں عوام کو دفاتر اور عہدیداروں کے چکر کاٹنے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز تعمیرات کو روکنے کے لیے انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے جس کے تحت کسی نوٹس کے بغیر ہی منہدم کرنے کی اجازت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون سے کرپشن اور بے قاعدگیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ وزیر بلدی نظم و نسق کی حیثیت سے انہوں نے تعمیرات کے خلاف کارروائی کو روکنے کے لیے کئی اسٹے دیئے تھے لیکن اب اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نئے قانون میں وزیر سے یہ اختیار حاصل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ٹی ایس آئی پاس قانون کامیابی سے نافذالعمل ہے اسی طرح میونسپل ایکٹ پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قوانین پر عمل آوری کے لیے حکمراں طبقے میں سنجیدگی کی ضرورت ہے اور ٹی آر ایس کی سنجیدگی کے نتیجہ میں ٹی ایس آئی پاس کامیاب ہوا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ صحیح وقت پر میونسپل ایکٹ کو منظوری دی گئی اور بہت جلد میونسپلٹیز کے انتخابات منعقد کئے جائیں گے۔ لہٰذا انتخابات میں حصہ لینے والوں کو بھی قانون کے بارے میں باشعور ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر حکمرانی کی صورت میں ارکان اسمبلی کی نہ صرف کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ ان کا نام روشن ہوگا۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ عوام کو سیلف اسسمنٹ کا اختیار دیا گیا ہے جو جمہوری عمل اور شفافیت کی علامت ہے۔ عوام کو کرپشن سے روکنے میں یہ بل اہم رول ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر دھن کے پکے ہیں اور وہ اس قانون پر عمل آوری کو یقینی بنائیں گے۔ میونسپل ایکٹ پر شعور بیداری کے لیے تربیتی کیمپس کا انعقاد عمل میں آئے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نئے قانون کے نتائج برآمد ہونے کے لیے کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت راج اور میونسپل ایکٹ کی طرح بہت جلد نیا ریونیو ایکٹ متعارف کیا جائے گا۔ عوام کو کرپشن سے پاک نظم و نسق فراہم کرنا حکومت کا عین مقصد ہے۔ نیا میونسپل ایک گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے لیے بھی قابل عمل رہے گا۔ بلدی انتخابات کے لیے پارٹی کی تیاریوں کے سلسلہ میں پوچھے گئے سوال پر کے ٹی آر نے بتایا کہ ارکان اسمبلی کو ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ امیدواروں کی کامیابی میں اہم رول ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ میونسپلٹی میں 25 گز کی اراضی پر اجازت کے بغیر تعمیر کی راحت دینا غریبوں کے لیے بڑی سہولت ہے۔ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کو چاہئے کہ وہ عوام کو اس سہولت سے آگاہ کریں۔ نئے قانون سے ضلع کلکٹرس کے فرائض میں اضافہ ہوگا۔ ہر ضلع میں تین یا چار میونسپالٹیز ہیں جن کی کارکردگی میں کلکٹرس اہم رول ادا کریں گے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ ٹی آر ایس پارٹی کی رکنیت سازی 35 لاکھ سے تجاوز اختیار کرچکی ہے اور توقع کے مطابق نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ سابق میں ٹی آر ایس کی رکنیت 43 لاکھ تھی۔ اس بار یہ نشانہ بھی پار کرلیا جائے گا۔ انہوں نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اروند کے اس بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ بی جے پی تلنگانہ میں چار لوک سبھا نشستوں کی کامیابی پر رکنے والی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اروند کے بیان پر تبصرہ کرنا اپنے مقام کو کم کرلینا ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ چار ارکان پارلیمنٹ کے باوجود بی جے پی کو صرف 8 زیڈ پی ٹی سی نشستوں پر کامیابی ملی۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کی سبقت برقرار رہے گی اور دوسرے مقام کے لیے کانگریس اور بی جے پی میں مقابلہ رہے گا اور کوئی بھی دوسرا مقام حاصل کرے اس سے ہمیں کوئی مطلب نہیں ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس پارٹی بحران کا شکار ہے اور اے آئی سی سی کے صدر کا آج تک انتخاب نہیں کیا گیا۔ پی سی سی صدر بھی نہیں کے برابر ہے۔ انہوں نے آندھراپردیش اسمبلی میں جاری مباحث اور کرناٹک کی سیاسی صورتحال پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے اسمبلی اور سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کی تعمیر کے مسئلہ پر تبصرے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیردوراں ہے۔ عدالت جو بھی کہے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی اور صحافیوں کو امکنہ اراضی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیردوران ہے۔ چیف منسٹر نے اس مسئلہ کا اندرون ایک ہفتہ حل تلاش کرنے کے لیے اپنے دفتر کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت صحافیوں کے مسائل کے حل کی پابند ہے اور بہت جلد میں صحافیوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کروں گا۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ کے گورنر کی تبدیلی کی اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کے عہدے کا غلط استعمال نہیں کیا جانا چاہئے ۔ جو ادارہ بھی ہو اسے اپنے حدود میں کام کرنے سے مسائل پیدا نہیں ہوتے۔
