ویجلینس کی 660 تحقیقاتی رپورٹس برفدان کی نذر، حکومت کی خاموشی سے عہدیداروں کے حوصلے بلند
حیدرآباد : نظم و نسق میں کرپشن کے خاتمہ کا دعویٰ کرنے والی ٹی آر ایس حکومت گزشتہ 6 برسوں سے ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پیش کردہ 660 تحقیقاتی رپورٹس پر کسی کارروائی کے بغیر التواء میں رکھا ہے۔ ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں اور ملازمین کی مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ کرتے ہوئے حکومت کو 660 کیسیس کے تحت 722 رپورٹس روانہ کی۔ سنٹر فار گڈ گورننس کی جانب سے پیش کی گئی آر ٹی آئی درخواست میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ حکومت نے بدعنوان عہدیداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ فورم کی جانب سے گورنر ٹی سوندرا راجن سے درخواست کی گئی کہ وہ رپورٹس پر کارروائی کیلئے چیف سکریٹری کو ہدایت دیں۔ آر ٹی آئی رپورٹ کے تحت موصولہ اعداد و شمار کے مطابق 2014 ء سے 2020 ء کے درمیان ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے مختلف سرکاری محکمہ جات سے متعلق 660 معاملات کی جانچ کی ۔ اس سلسلہ میں سکریٹریٹ کو رپورٹ روانہ کی گئی لیکن حکومت نے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ متعلقہ محکمہ جات کو رپورٹ کی نقل روانہ کی گئی لیکن یہ جان کر حیرت ہوئی کہ کسی بھی محکمہ کی جانب سے کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔ ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ کی تشکیل کا مقصد سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور خاص طور پر کرپشن اور بے قاعدگیوں کے معاملات کی جانچ کرنا ہے ۔ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹس کی سطح پر تحقیقاتی رپورٹ کو برسوں التواء میں رکھتے ہوئے خاطی پائے گئے ملازمین اور عہدیداروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کارروائی رپورٹ کے ساتھ ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ کو اطلاع دیں۔ فورم فار گڈ گورننس کے سکریٹری ایم پدمنابھ ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بدعنوان عہدیداروں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ کے کیسیس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں سرکاری نظم و نسق میں کرپشن میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ زیادہ تر معاملات ریونیو، میونسپل ایڈمنسٹریشن ، پنچایت راج ، اریگیشن اور اگریکلچر ڈپارٹمنٹس کے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدم کارروائی کے سبب عہدیداروں میں جوابدہی کا احساس ختم ہوچکا ہے۔ چیف سکریٹری سومیش کمار کو ان معاملات کی فی الفور جانچ کرنی چاہئے ۔