کسی اشتعال انگیزی یا قانون کی خلاف ورزی کی تردید۔ قانونی کارروائی کے خدشہ کے تحت اقدام
حیدرآباد۔/26 جولائی، ( سیاست نیوز) اکبر الدین اویسی قائد ایوان مقننہ مجلس پارٹی نے آج ایک حیرت انگیز اقدام کرتے ہوئے اپنی تقریر سے متعلق وضاحت پیش کی۔ سیاسی حلقوں میں اکبر الدین اویسی کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کیونکہ سابق میں اکبر الدین اویسی نے نہ ہی کوئی پریس نوٹ جاری کیا ہے اور نہ ہی اس طرح کے مسائل پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرنے کی زحمت گوارہ کی۔ اکبر اویسی نے جو پریس نوٹ جاری کیا ہے کہ ان کی کریم نگر کی تقریر سے کسی مذہب اور طبقہ کی دلآزاری نہیں ہوئی اور کہا کہ چند مفادات حاصلہ اپنے مفادات کیلئے اس طرح کی حرکتیں کررہے ہیں۔ رکن اسمبلی نے 2012 میں کی گئی اپنی تقریر پر اس طرح کی کوئی وضاحت نہیں کی تھی جبکہ اس تقریر کے سلسلہ میںوہ 40دن کے قریب جیل میں قید تھے لیکن 24جولائی کو کریم نگر میں تقریر پر اندرون تین دن وضاحت کے معاملہ میں کہا جارہا ہے کہ پارٹی سربراہ کی ہدایت اور ماہرین قانون کے مشورہ کے بعد یہ پریس نوٹ جاری کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن اسمبلی نے کریم نگر تقریر پر کسی بھی طرح کی قانونی کارروائی نہ ہو اس لئے احتیاطی اقدام کے تحت پریس نوٹ جاری کیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقریر میں اشتعال انگیزی نہ ہونے پر بھی ان کی وضاحت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں بڑے پیمانہ پر قانونی کارروائی کا خدشہ ہے۔ حالانکہ اکبر اویسی کی جانب سے جاری پریس نوٹ کو اندرون چند منٹ سوشیل میڈیا پر عام کردیا گیا تھا لیکن پہلی مرتبہ رکن اسمبلی کے پریس نوٹ کو دیکھ کر میڈیا نمائندے حیرت کا شکار ہوگئے اور اس کی تصدیق کیلئے دارالسلام سے رابطہ قائم کیا۔ جس کے بعد رکن اسمبلی کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو ان کے ای میل ایڈریس پر بھی پریس نوٹ بھیجا گیا جس کے بعد میڈیا کی اُلجھن دور ہوگئی۔
اکبر اویسی کے پریس نوٹ کا ترجمہ
میں اکبر الدین اویسی ولد سلطان صلاح الدین اویسی مرحوم یہ بیان جاری کرتا ہوں کہ میں نے کریم نگر میں تقریر کی ہے اس میں کسی کی دل آزاری نہیں کی اور نہ کوئی غیر قانونی بات کہی ہے۔ اس تقریر کے دوران کسی کے مذہبی جذبات کو بھی مجروح نہیں کیا گیا لیکن کچھ لوگ اپنی سیاسی مقصد براری کیلئے مذموم حرکت کرتے ہوئے بعض جملے شامل کررہے ہیں اور تقریر کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس طرح کی کوششوں کے ساتھ پولیس سے رجوع ہوتے ہوئے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میری تقریر کسی کی دل آزاری کا سبب نہیں ہے اور نہ ہی میں نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
