سرسلہ سے کے ٹی آر کو ہرانے زعفرانی پارٹی کمربستہ ، کریم نگر میں بنڈی کا کھیل بگاڑنے بھارت راشٹرا سمیتی کی جان توڑ کوشش
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع میں ضلع کریم نگر ایسا ضلع ہے جہاں مختلف سیاسی جماعتوں اور ان کے طاقتور و بااثر امیدواروں کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے ۔ اس حلقہ میں خاص طور پر بی آر ایس اور بی جے پی کے کلیدی امیدوار میدان میں ہیں۔ مثال کے طور پر بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ وزیر گنگولا کملاکر ، بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بنڈی سنجے ، بی جے پی کے لیڈر ایٹالہ راجندر اور نظام آباد کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند مقابلے میں ہیں ۔ حلقہ اسمبلی کریم نگرمیں گنگولا کملاکر اور بی جے پی کے سابق ریاستی صدر و موجودہ قومی جنرل سکریٹری بنڈی سنجے ایم پی کے درمیان سخت مقابلہ کا امکان ہے ۔ اگر بنڈی سنجے کو کریم نگر حلقہ اسمبلی سے شکست ہوتی ہے تو پارٹی میں ان کا موقف کمزور ہوسکتا ہے ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ بنڈی سنجے اور گنگولاکملا کر ایک ہی کمیونٹی یا ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس حلقہ میں بی جے پی بہت ہی احتیاط سے کام لے رہی ہے اور خصوصی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے کیوں کہ اسے خوف ہے کہ اگر حلقہ اسمبلی کریم نگر میں بنڈی سنجے کو شکست ہوتی ہے تو ساری ریاست میں بی جے پی کی ساکھ متاثر ہوگی ۔ اس لیے خود بنڈی سنجے نے وزیراعظم نریندر مودی سے اس حلقہ میں خطاب کرنے کی درخواست کی ہے ۔ ضلع کریم نگر کو ان اسمبلی انتخابات میں اس لیے بھی اہمیت دی جارہی ہے کہ سابقہ ضلع کے حلقہ سرسلہ سے خود کے ٹی آر مقابلہ کررہے ہیں ۔ دوسری طرف حضور آباد سے ایٹالہ راجندر کورٹلہ سے نظام آباد کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں ۔ بنڈی سنجے اور ڈی اروند اپنے اشتعال انگیز اور جارحانہ بیانات کے لیے بدنام ہیں ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حلقہ اسمبلی کریم نگر میں بنڈی سنجے اور گنگولا کملاکر کے درمیان ٹکر کا مقابلہ ہے اور دونوں ایک ہی ذات منورو کاپو سے تعلق رکھنے کے باعث یہ مقابلہ بڑا دلچسپ ہوگیا ہے ۔ ایک طرف بنڈی سنجے ، ڈی اروند اور ایٹالہ راجندر کو شکست دینے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی کچھ اور ہی منصوبہ پر عمل کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بنڈی سنجے نے شخصی طور پر وزیراعظم نریندر مودی سے اپنے حلقہ میں خطاب کرنے کی درخواست کی ۔ اس کے علاوہ زعفرانی جماعت سرسلہ میں کے ٹی آر کو سخت مقابلہ دینے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے اور اس معاملہ میں بنڈی سنجے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں ۔ بی جے پی کے داخلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی نے بہت ہی سوچ سمجھ کر اور بڑے غور و فکر کے بعد ہی پارٹی ترجمان اور سابق اینکر رانی ردرما ریڈی کو سرسلہ سے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا اور ان کے نام کی سفارش بنڈی سنجے نے کی ہے ۔ ریاست کے 62 اسمبلی حلقہ ایسے ہیں جہاں خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ سرسلہ میں خاتون رائے دہندوں کی تعداد 1.18 لاکھ بتائی جاتی ہے جب کہ مرد رائے دہندوں کی تعداد 1.14 لاکھ ہے ۔ پارٹی نے رانی ردرما کو کوآپریٹیو الیکٹرک سپلائی سوسائی (CESS) کے انتخابات کی ذمہ داری بھی تفویض کی تھی جس میں بی آر ایس کے تائیدی 13 امیدواروں نے ڈائرکٹرس کے عہدے حاصل کئے جب کہ بی جے پی کے تائیدی دو امیدواروں کو کامیابی ملی ۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ کریم نگر بلدی انتخابات میں بھی پارٹی نے اچھا مظاہرہ کیا اور 18 نشستیں حاصل کی ۔ دوسری طرف حضور آباد کے رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر کو دو لڑائیاں لڑنی ہیں ۔ واضح رہے کہ ایٹالہ حضور آباد کے ساتھ ساتھ گجویل سے بھی مقابلہ کریں گے ۔ جہاں تک کے ٹی آر کا سوال ہے کے ٹی آر نے تین مرتبہ سرسلہ سے کامیابی حاصل کی اور 2010 کے ضمنی انتخابات میں بھی انہیں کامیابی ملی تھی ۔ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کے ٹی آر نے 70 فیصد اور کانگریس نے 30 فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ جہاں تک گنگولاکملاکر کا سوال ہے وہ بی آر ایس کے با اثر لیڈر سمجھے جاتے ہیں وہ وہاں سے تین مرتبہ کامیاب ہوچکے ہیں اور وہ بنڈی سنجے کا تیسری مرتبہ سامنا کررہے ہیں ۔ 2018 میں بی آر ایس اور بی جے پی امیدواروں کے ووٹ شیئر میں صرف 7 فیصد کا فرق تھا ، 2014 میں بنڈی سنجے نے 27 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے اور پھر 2018 میں 33 فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ اس حلقہ میں مسلم رائے دہندے فیصلہ کن رول ادا کرسکتے ہیں ۔ اگر یہ متحدہ طور پر سیکولر امیدوار کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو کانگریس کا فائدہ ہوسکتا ہے ۔۔