5 بھائیوں کے درمیان جھگڑے میں ایک بھائی زخمی، فائرنگ سے متعلق پولیس کی عدم توثیق، تفتیش جاری
کریم نگر۔ 16 جولائی کو کریم نگر میں جمعہ کی رات ایک ٹی آر ایس رہنما کی فائرنگ واقعہ نے ہلچل مچا دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شا شا محلے کے علاقے خلیل پور میں جائیداد کے تنازعہ پر پانچ بھائیوں کے مابین کچھ دن سے تنازعہ چل رہا ہے۔ ٹی آر ایس رہنما سید اصغر حسین (52) (بڑے بھائی) نے رات نو بجے کے لگ بھگ پہلے اپنے چھوٹے بھائی سید منور حسین (38) پر چاقو سے حملہ کیا جسے تین دیگر بھائیوں نے روکا۔ اصغر حسین نے اپنے ریوالور سے ان پر دو بار فائر کیا۔ تاہم یہ چاروں افراد فائرنگ سے بچ گئے جبکہ دو گولیاں انووا کار کے شیشے کو لگیں۔ کریم نگر ایڈیشنل ڈی سی پی ایس سرینواس اور سٹی ایڈیشنل ڈی سی پی اشوک نے موقع واردات کا دورہ کیا اور تفتیش کر رہے ہیں۔ فائرنگ کرنے والے اصغر حسین کے ساتھ ان کے بھائیوں کو کریم نگر ون ٹاؤن کو منتقل کردیا گیا۔ پولیس نے گولیوں سے چھلنی ہونے والی کار کے ساتھ چاقو بھی قبضے میں لے لیا۔ ریوالور کی تلاش جاری ہے۔ اصغر حسین کے پاس سے پیپلز نیوز سروس کے ایڈیٹر کے نام پریس شناختی کارڈ بھی ملا۔ پانچوں بھائی اس وقت شا شا محلے کے علاقے میں واسوی ٹاورز کے سامنے ایک ہی گھر میں مقیم ہیں۔ کمان سے ہاؤزنگ بورڈ کالونی جانے والی سڑک پر پانچ شٹر کی دکان ہے۔ اس پراپرٹی کی قیمت لگ بھگ 3 کروڑ بتائی جارہی ہے۔ بھائی الزام لگارہے ہیں کہ اصغر حسین نے بائی پاس کے علاقے میں 2 ایکڑ اراضی اصغر حسین نے تنہا فروخت کی تھی، یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ مشترکہ جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ متاثرہ افراد دو دن تک تنازعہ کے متعلق کریم نگر میں ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن بھی گئے تھے۔اس بات کی بھی اطلاع دی جارہی ہے کہ اصغر حسین فائرنگ سے قبل چار دیگر بھائیوں کے ساتھ تصادم میں زخمی ہوگیا تھا۔ اصغر حسین کو علاج کے لئے کریم نگر سرکاری ہاسپٹل پہنچایا گیا۔ فائرنگ واقعہ سے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ ریوالور قبضے میں نہیں لیا گیا تھا۔ کار کے شیشے دو گولیوں سے بکھر گئے۔ کریم نگر سٹی کے ایڈیشنل ڈی سی پی پی اشوک نے بتایا کہ بھائیوں کے مابین جھگڑے اور چاقو سے حملہ کرنے کی بات ہوئی ہے لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس نے ریوالور سے فائرنگ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کار کی کھڑکیوں میں دراڑوں کی تکنیکی طور پر ابتدائی تفتیش کی گئی ہے اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ گولی کی وجہ سے کار کے آئینے ٹوٹ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چاروں بھائیوں نے مل کر اصغر حسین کو پیٹا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے خلاف دو الگ الگ مقدمات درج کئے گئے ہیں اور تفتیش جاری ہے۔