کریڈٹ کارڈس کا غیر ضروری استعمال اور ایپس سے قرض کا حصول وبال جان

   

نوجوانوں کو کارڈ اور قرض کے حصول سے چوکنا رہنا ضروری، علماء فوری توجہ دیں
حیدرآباد۔22فروری(سیاست نیوز) کریڈٹ کارڈس کا غیر ضروری استعمال اور موبائیل ایپس کے ذریعہ بہ آسانی فراہم کیا جانے والا قرض دونوں ہی نوجوانوں کے لئے وبال جان بن سکتے ہیں کیونکہ یہ قرض ملتے آسانی سے ہیں اور ان کی وصولی کے لئے کئے جانے والے فون کالس اور ہراسانی کئی نوجوانوں کے لئے جان لیوا ثابت ہوچکی ہے اسی لئے نوجوانوں کو کریڈٹ کارڈ کے علاوہ فوری طور پر قرض فراہم کرنے والی ایپ سے چوکنا و چوکس رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ماہ رمضان المبارک کے دوران اخراجات میں ہونے والے اضافہ کی تکمیل کے لئے ان ایپس کے ذریعہ قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ علماء بالخصوص ذمہ داران ملت اسلامیہ کی بااثر شخصیات کو اس سنگین مسئلہ پر فوری توجہ مرکوز کرتے ہوئے نوجوانوں کو اس لعنت کا شکار ہونے سے محفوظ رکھنے کے لئے ان میں شعور اجاگر کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ بہ آسانی حاصل ہونے والے اس قرض کے حصول کے ذریعہ وہ نہ صرف مشکلات میں مبتلاء ہورہے ہیں بلکہ سودی لعنت کا شکار بھی ہونے لگے ہیں۔ اپنے اخراجات کی تکمیل کے لئے بہ آسانی حاصل ہونے والے قرض یا کریڈٹ کارڈ کا استعمال عام ہونے لگا ہے جبکہ قومی سطح پر انسداد خودکشی اور ذہنی تناؤ میں مبتلاء افراد کے لئے چلائی جانے والی ہیلپ لائن جس پر کونسلنگ کی جاتی ہے اس ہیلپ لائن پر سال 2025کے دوران موصول ہونے والے فون کالس میں مجموعی طور پر چھوٹے قرض کی وصولی جو کہ عمومی طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمس سے حاصل کئے گئے تھے سے پریشان افراد کے کالس 24 فیصد سے زائد تھے ۔قرض حاصل کرنے سے قبل نوجوانوں کو محض اپنی ضرورتیں نظر آتی ہیں اور وہ ان ضرورتوں کے آگے بے بس ہوتے ہوئے بہ آسانی جو قرض دستیاب ہونے لگے ہیں ان سے استفادہ کرلیتا ہے اور انجام کی پرواہ نہیں کرتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں نوجوانوں کو نہ صرف قرض کی واپسی کے لئے فون کالس کے ذریعہ ہراساں کیا جانے لگتا ہے بلکہ دیگر رشتہ داروں سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے قرض کے متعلق بتایا جاتا ہے اور قرض حاصل کرنے والوں کو ذلیل و رسواء کرتے ہوئے انہیں مجبور کیا جانے لگتا ہے۔ ڈیجیٹل قرض کی فراہمی کے بعد قرض کی وصولی کے طریقہ کار کے غیر قانونی ہونے سے متعلق ہر کوئی واقف ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی رقومات کی وصولی کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرنے لگتے ہیں ۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران نوجوانوں میں بڑھ رہے اس رجحان پر فوری قابو پانے کے اقدامات کرتے ہوئے انہیں اس طرح کے ڈیجیٹل ایپس جو قرض فراہم کرتے ہیں ان سے بھاری سود پر قرض حاصل کرنے سے روکنے کے اقدامات کئے جانے کے ساتھ ساتھ اس بات سے واقف کروایا جانا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل ایپس کے ذریعہ حاصل کئے جانے والے قرض کے علاوہ کریڈٹ کارڈ کے غیر ضروری استعمال کے بعد عدم ادائیگی کے سنگین نتائج برآمد ہونے کا خدشہ رہتا ہے اسی لئے وقتی خوشی اورضرورت کی تکمیل کے لئے طویل مدتی مشکلات کا شکار ہونے کے بجائے کفایت شعاری کے ساتھ کام لینے کو ترجیح دی جائے۔3