کسانوں اور اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی سخت

   


ایس پی کارکنوں کا ضلع ہیڈکوارٹر پر دھرنا ،حکومت مخالف نعرے بازی

لکھنؤ: کسان تحریک کی حمایت میں اترپردیش میں مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے ریاست گیر احتجاجی مظاہرہ کے پیش نظر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نپٹنے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔لکھنؤ میں ایس پی دفتر کے باہر بڑی تعداد میں سیکورٹی فورس کو تعینات کیا گیا ہے ۔ دفتر کو بیری کیٹنگ کے ذریعہ گھیر دیا گیا ہے ۔ضلع انتظامیہ نے کووڈ پروٹوکول کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کی اجازت نہیں دی ہے ۔پولیس کے مطابق احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سختی کی جائے گی۔ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کی ہدایت پر پارٹی کارکنوں اور عہدیدارپیر کو سبھی ضلع ہیڈکوارٹر پر احتجاج کریں گے ۔ ایس پی کے علاوہ کانگریس،راشٹریہ لوک دل اور عام آدمی پارٹی(عاپ) نے بھی کسانوں کی بھوک ہڑتال کو اپنی حمایت دیتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا ہے ۔ادھرکسانوں نے وزیر دفاع و لکھنؤ کے رکن پارلیمان راجناتھ سنگھ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کا انتباہ دیا ہے ۔ اس کے پیش نظر مسٹر سنگھ کے دلکشا واقع رہائش گاہ کے آس پاس سیکورٹی کے پختہ انتظام کئے گئے ہیں۔ کسان اس کے علاوہ موہن لال گنج سے رکن پارلیمان کوشل کشور کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کریں گے ۔فیروزآباد سے موصول رپورٹ کے مطابق کسان تحریک کی حمایت میں ایس پی کارکنوں نے ضلع ہیڈکوارٹر پر احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ پولیس نے 60سے زیادہ ایس پی کارکنوں کو حراست میں لیا ہے ۔ سوال لائن کے باہر بیٹھے ایس پی لیڈروں کو پولیس نے زبردستی اٹھا دیا۔ گوکھپور میں نگر نگم احاطے میں سماج وادی پارٹی نے احتجاجی مظاہرہ کرنے سے پہلے ہی پولیس نے بڑی تعاد میں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ جونپور میں ایس پی حکومت میں وزیر رہے جگدیش نارائن رائے سمیت پارٹی کے دیگر لیڈروں اور عہدیداروں کے گھر کے باہر کثیر مقدار میں پولیس دستوں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ضلع کے جعفرآباداسمبلی حلقے میں کسان یاترا کے پیش نظر کثیر تعداد میں پولیس ٹیم کو صبح سے ہی ایس پی کے قدآور رہنما کے گھر کے باہر تعیانت کیا گیا ہے ۔ ضلع میں گھروں کے اندر موجود ایس پی لیڈروں کے باہر نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔