متنازعہ مرکزی قوانین سے دستبرداری تک احتجاج جاری رکھنے کانگریس کا اعلان
حیدرآباد: نئی دہلی میں جاری کسانوں کے احتجاج سے اظہار یگانگت کے طور پر سابق صدر پردیش کانگریس وی ہنمنت راؤ نے آج اپنی قیامگاہ باغ عنبرپیٹ میں ایک دن کی بھوک ہڑتال کی ۔ کسانوں نے اپنے مطالبات کی تائید میں ملک بھر میں آج ایک روزہ بھوک ہڑتال کا اہتمام کیا تھا ۔ کسانوں کی تائید میں ہنمنت راؤ نے صبح 10 تا شام 4 بجے تک بھوک ہڑتال کی اور مرکز سے مطالبہ کیا کہ متنازعہ قوانین سے دستبرداری اختیار کرلے۔ سابق ریاستی وزیر ایم ششی دھر ریڈی نے شام میں ہنمنت راؤ کو شربت پیش کرتے ہوئے بھوک ہڑتال ختم کرائی ۔ اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ملو روی ، سابق رکن اسمبلی کے سری سیلم گوڑ نے ہنمنت راؤ کی بھوک ہڑتال سے اظہار یگانگت کیا۔ پردیش کانگریس کے ترجمان لکشمن یادو ، پردیش کانگریس کے سکریٹریز ایس سریکانت گوڑ ، سرینواس گوڑ ، یادگیری گوڑ ، محمد کریم ، یوتھ کانگریس کے ترجمان ایس کرانتی کمار ، این ایس یو آئی کے سٹی پریسیڈنٹ ابھیجیت یادو، کانگریس قائدین شیخ جمیل ، سی سدھاکر ، تلک سنگھ ، محمد رفیق ، ایس منموہن اور دوسروں نے ایک روزہ بھوک ہڑتال میں حصہ لیا ۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ اور ششی دھر ریڈی نے کہا کہ کارپوریٹ شعبہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے مخالف کسان قوانین تیار کئے گئے ہیں۔ ملک بھر کے کسان احتجاج پر ہیں لیکن حکومت کو احتجاج ختم کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک بھر میں کسانوں کے احتجاج کی تائید کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں بلز کی مخالفت کی گئی تھی۔ انہوں نے ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس نے متنازعہ قوانین کے خلاف رائے دہی میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن کسانوں سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کرنے کیلئے احتجاج کی تائید کی گئی۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ریاست میں کسانوں کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو آج تک امداد نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کے آئندہ احتجاجی پروگراموں میں حصہ لے گی۔
