14ڈسمبر کو ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان ، دہلی۔ جئے پور قومی شاہراہ پر 12 ڈسمبر کو چکہ جام
نئی دہلی : کسان یونینوں نے زرعی قوانین پر پیدا شدہ تعطل کو ختم کرنے کیلئے مرکز کی جانب سے روانہ کردہ تجاویز کو مسترد کردیا۔ ادھر مودی حکومت بھی ضد پر ہے اور ادھر کسان بھی ضدی ہوگئے ہیں۔ دارالحکومت دہلی کے قریب کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ ان کا کہنا ہیکہ وہ 12 ڈسمبر کو دہلی۔ جئے پور قومی شاہراہ پر چکہ جام کریں گے اور 14 ڈسمبر کو ملک کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرے کریں گے۔ احتجاجی کسانوں نے دیگر ریاستوں کے کسانوں پر بھی زور دیا کہ وہ دہلی پہنچ جائیں۔ کسان لیڈر درشن پال نے کہا کہ آگرہ دہلی ایکسپریس وے کو 12 ڈسمبر کے دن بند کردیا جائے گا۔ ملک میں کسی بھی ٹول پلازا پر اس دن کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا جائے گا۔ ہم دہلی میں تمام سڑکوں پر چکہ جام کریں گے۔ اگر تینوں زرعی قوانین کو ختم نہیں کیا گیا تو ہمارے احتجاج میں شدت پیدا ہوگی۔ دہلی کے قریب ہریانہ کی جانب واقع سنگھو سرحد پر موجود کسان قائدین نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ساتھ آئندہ مرحلہ کی بات چیت کیلئے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ 26 نومبر سے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ منگل کے دن کسان یونینوں نے 11 بجے دن سے سہ پہر 3 بجے تک بھارت بند منایا تھا۔ ملک گیر سطح پر بھارت بند کی کامیابی کے بعد کسان قائدین نے کہا کہ حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ ہماری بات چیت میں بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے منگل کی شام ہی احتجاجی کسان قائدین اس کو مدعو کرکے بات چیت کی تھی لیکن یہ بات چیت بھی ناکام رہی۔ کسانوں کو بتایا گیا کہ حکومت تجاویز کی فہرست پیش کرے گی لیکن کسانوں نے ان تجاویز کو مسترد کردیا۔ اس فہرست میں 7 مجوزہ ترمیمات پیش کی گئی ہیں۔ فہرست کو آج چہارشنبہ کے دن کسانوں کی 13 یونینوں کے قائدین کے حوالہ کیا گیا۔ ان قائدین نے حکومت کی تجاویز پر غوروخوض کیا اور بعدازاں انہیں مسترد کردیا۔ کسان لیڈر پرہلاد سنگھ بھروکھیڈا نے کہا کہ حکومت کی تجاویز میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم مودی حکومت کی تین زرعی مارکٹنگ قوانین کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ حکومت نے اپنی تجاویز میں اس بات سے اتفاق کیا ہیکہ وہ اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) کو جاری رکھنے کا تحریری تیقن دے گی۔ اسی دوران مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر آج شام وزیرداخلہ امیت شاہ کی رہائش گاہ پہنچ کر کسانوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
ملک بھر میں کسانوں کا شاہین باغ طرز پر احتجاج
پونے میں کسان باغ احتجاج شروع کرنے یونینوں کا مشترکہ فیصلہ
پونے : مودی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے بھارت بند کے ایک دن بعد مہاراشٹرا کے شہر پونے میں ایک چھوٹی احتجاجی مہم شروع کی گئی۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہیکہ ملک بھر میں کسانوں اور ورکرس کی طرف سے مودی حکومت کے خلاف لمبا سرمائی احتجاج شروع کیا جائے گا۔ سی اے اے کے خلاف دارالحکومت دہلی میں گذشتہ شاہین باغ کا احتجاج عالمگیر شہرت پا گیا تھا۔ شاہین باغ کی طرز پر کسان برادری بھی ملک بھر میں احتجاج شروع کرے گی۔ کئی کسانوں اور ورکرس گروپ نے پونے میں ’’کسان باغ‘‘ احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں کسانوں اور ورکرس کیلئے انصاف کے حصول تک احتجاج جاری رہے گا۔ بزرگ سماجی جہدکار باباصاحب پانڈورنگ ادھو کی تجویز کے مطابق کسان باغ احتجاج شروع کیا جارہا ہے۔ 50 کسان پونے کلکٹریٹ کے باہر دھرنا دیکر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کا یہ دھرنا دوسرے دن میں داخل ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی یوم انسانی حقوق کے موقع پر رائے گڑھ میں کونکن بھون پر جمعرات کو احتجاج شروع کیا جائے گا۔ بعدازاں اسی طرح کا کسان باغ مہاراشٹرا کے تمام علاقوں میں قائم کیا جائے گا۔ جنگ آندولن سنگھرش سمیتی کے کنوینر وشواش اٹوگی نے بتایا کہ بابا ادھو کا احساس ہیکہ کسان باغ کے احتجاج سے ملک بھر میں زور دار پیام جائے گا۔ ملک کے کسان مودی حکومت کے خلاف غم و غصہ رکھتے ہیں۔