کسانوں کا آج بھارت بند ، اپوزیشن کی بھرپور تائید

,

   

زرعی قوانین کے خلاف 11 تا 3 بجے دن احتجاج
بینک حسب معمول کام کریں گے ، کئی امتحانات ملتوی
نئی دہلی : مودی حکومت کی جانب سے سپٹمبر میں منظورہ تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف تقریباً دو ہفتے سے جاری کسانوں کا احتجاج منگل 8 ڈسمبر کو عروج پر ہوگا جب صبح 11 بجے تا سہ پہر 3 بجے بھارت بند منایا جائے گا ۔ پنجاب ، ہریانہ اور ملک بھر کی مختلف کسان تنظیموں اور یونینوں نے بھارت بند کی تائید و حمایت کی ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستی حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں نے بھی بند کی تائید کا اعلان کیا ہے۔ احتجاجی کسان یونینوں نے کہا کہ وہ بھارت بند کے ذریعہ عام لوگوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو متاثر کرنا نہیں چاہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت بند کے اوقات مقرر کرتے ہوئے اسے دن میں 11 تا 3 بجے تک محدود کیا گیاہے۔ بینک یونینوں نے وضاحت کی ہے کہ وہ منگل کے بھارت بند میں حصہ نہیں لیں گے ۔ چنانچہ آل انڈیا بینک آفیسرس کنفیڈریشن اور آل انڈیا بینک ایمپلائیز اسوسی ایشن نے کہاکہ منگل کو بینک حسب معمول کام کریں گے ۔ تاہم ملک بھر میں مختلف امتحانات کو ملتوی کرنا پڑا ہے ۔ انسٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا نے اپنا ایک امتحان جو منگل کو مقرر تھا ، 13 ڈسمبر کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے ۔ اسی طرح مختلف ریاستوں میں مختلف امتحانات ملتوی کئے گئے ہیں۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے کہاکہ مرکز کو عوام دشمن زرعی قوانین سے فوری دستبرداری اختیار کرنا یا پھر سبکدوش ہوجانا چاہئے۔ اُنھوں نے ویسٹ مدنا پور ضلع میں ایک ریالی سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ وہ بی جے پی کی غلط حکمرانی پر خاموش رہنے کے بجائے جیل میں رہنا پسند کرے گی ۔ لکھنو میں صدر سماج وادی پارٹی اکھلیش یادو نے بھی کہا کہ کسانوں کی آواز کو ہرگز دبایا نہیں جاسکتا ۔ اکھلیش کو غیرمعلنہ طورپر گھر میں نظربند کردیا گیا ہے ۔ انھوں نے پارٹی ورکرس اور حامیوں کے ہمراہ دھرنا منظم کیا اور مرکزی حکومت کے خلاف موقف اختیار کرتے ہوئے خود کو گرفتاری کے لئے پیش کیا۔ اُترپردیش سے ہی صدر بی ایس پی مایاوتی نے بھی منگل کے بھارت بند کو اپنی پارٹی کی تائید کا اعلان کیا۔ اُنھوں نے ٹوئیٹ کیا کہ تینوں زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا بھارت بند واجبی اقدام ہے اور مرکزی حکومت کو کسانوں کا مطالبہ سننا چاہئے ۔ ٹی ایم سی ،ایس پی ، بی ایس پی کی طرح کانگریس ، ڈی ایم کے ، آر جے ڈی ، این سی پی ، سی پی آئی ، سی آئی ۔ایم و دیگر نے بھی بھارت بند کی تائید کی ہے ۔ اپوزیشن قائدین نے اس سلسلے میں مشترکہ بیان جاری کیا اور کسانوں کی حمایت کااعلان کیا ۔ حتی کہ بی جے پی اقتدار والی ریاست گجرات میں بھی 23 کسان گروپوں نے اجتماعی تنظیم ’’گجرات کھیدوت سنگھرش سمیٹی ‘‘ تشکیل دی اور منگل کے بھارت بند کی تائید کا اعلان کیا ۔ چار گھنٹے کے مصروف اوقات میں کسانوں کے بھارت بند کے پیش نظر ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی بندوبست کیا جارہا ہے ۔