مودی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں پر اظہار برہمی، کئی ریاستوں میں اہم خدمات معطل، دہلی جانے والی تمام سڑکوں پر چکہ جام
حکومت زرعی قوانین بل واپس لینے تیار نہیں
آج بات چیت نہیں ہوگی
امیت شاہ سے ملاقات کے بعد کسان قائدین کا بیان
نئی دہلی : ملک بھر میں کسانوں کی جانب سے بھارت بند کامیاب رہا۔ مودی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف برہمی ظاہر کرتے ہوئے مختلف ریاستوں میں بند منایا گیا۔ احتجاج کے مرکز دہلی سے متصل سنگھو سرحد پر سکیورٹی فورسیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا تھا۔بھارت بند کا سب سے زیادہ اثر شمالی ہند کے کئی علاقوں خاص کر پنجاب کے ساتھ ساتھ اڈیشہ اور جنوبی ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش میں دیکھا گیا۔ احتجاج کے دوران کئی قائدین کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔کئی قومی شاہراہوں پر 3 بجے سہ پہر تک چکہ جام کیا گیا۔ سمیوکت کسان مورچہ کے تحت کسان یونین گزشتہ دو ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ آج بند کی اپیل کی گئی تھی جس کی تقریباً 25 سیاسی پارٹیوں نے حمایت کی۔ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے بھارت بند کے درمیان دہلی ۔ میرٹھ شاہراہ کو بھی بند کردیا۔ احتجاجی کسان گزشتہ 10 دن سے دہلی، اترپردیش، غازی پور سرحد پرکیمپ کئے ہوئے ہیں۔ اِن کسانوں نے آج صبح پھر ایک مرتبہ میرٹھ سے جڑی ہوئی دہلی قومی شاہراہ کو بند کردیا تھا۔ دارالحکومت دہلی کی سرحدوں کے قریب ٹریفک شدید متاثر رہی۔ پڑوسی ریاستوں میں بھی عوامی ٹرانسپورٹ بند رہا۔ مودی حکومت نے اپنے مجوزہ زرعی قوانین میں ترمیمات لانے کی پیشکش کی تھی۔ اِس پر عدم مطمئن کسانوں نے بھارت بند کا اعلان کیا تھا۔ بھارت بند کے دوران سڑک اور ریل ٹریفک متاثر رہی۔ کئی قومی شاہراہوں کو بند کردیا گیا اور مارکٹ کے شٹرس گرادیئے گئے۔ کئی خدمات بھی متاثر رہیں۔ کسانوں کے لیڈر راکیش ٹیکٹ نے کہاکہ مجھے ایک فون کال موصول ہوا، وزیر داخلہ امیت شاہ نے ملاقات کی دعوت دی ہے۔ ہمیں 7 بجے شام ملنے کا وقت دیا گیا تھا لیکن رات 8 بجے بات چیت شروع ہوئی۔ امیت شاہ نے 13 کسان قائدین سے بات چیت کی۔ اِس ملاقات کا کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے۔ ہم صرف آج کی ملاقات میں وزیرداخلہ سے ایک ہی مطالبہ کریں گے کہ آپ ’’ہاں یا نہ‘‘ میں جواب دیں۔ کسان لیڈر ردرو سنگھ منسا نے سنگھو سرحد پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا موقف اٹل ہے۔ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد کسان قائدین نے کہا کہ حکومت اپنے زرعی قوانین کو واپس لینے تیار نہیں ہے۔لہذا کل چہارشنبہ کے دن حکومت سے مقررہ چھٹے دور کی بات چیت نہیں ہوگی۔کسان لیڈر حنان ملا نے کہا کہ امیت شاہ سے بات چیت ناکام ہوگئی ہے۔حکومت اپنی ضد پر قائم ہے۔کسانوں کے بعض قائدین نے دھمکی دی کہ وہ وگیان بھون میں چہارشنبہ کو مقررہ حکومت سے بات چیت کا بائیکاٹ کریں گے۔
آج کے بھارت بند کو کانگریس، این سی پی، عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے اور ٹی آر ایس کے بشمول کئی اپوزیشن پارٹیوں کی تائید حاصل تھی۔ جمعہ کے دن مرکز اور حکومت کے درمیان ہوئی بات چیت تقریباً 7 گھنٹے بعد بھی ناکام رہی۔ کسانوں کے گروپ نے کہاکہ وہ ستمبر میں نافذ کردہ کسان دشمن 3 قوانین کو برخاست کرنے تک کوئی بات قبول نہیں کریں گے۔ اِن قوانین کے تعلق سے اندیشہ ہے کہ کسانوں کی محنت کی کمائی گھٹادی جائے گی اور انھیں کارپوریٹ گھرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر جو مذاکرات کی قیادت کررہے ہیں، کہاکہ حکومت کے لئے کوئی انا کا مسئلہ نہیں ہے لیکن یہ واضح کیا جاتا ہے کہ قوانین کو واپس لینے سے ہٹ کر کوئی بھی دوسری چیز قبول کرنے تیار ہیں۔ کسان قائدین نے کہا کہ وہ اپنا احتجاج بروری گراؤنڈ سے رام لیلا گراؤنڈ منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ بہار میں بھارت بند کا اثر دیکھا گیا۔ راشٹریہ جنتادل، جن ادھیکار پارٹی اور بائیں بازو پارٹیوں نے پٹنہ میں منعقدہ بڑے پیمانے کے احتجاج میں حصہ لیا۔ بہار کے کئی حصوں میں بھی بند کا اثر دیکھا گیا۔ ممبئی میں شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہاکہ کسانوں کے بھارت بند کو سیاسی بند قرار دینا غلط ہے۔ مغربی بنگال میں کانگریس، بائیں بازو پارٹیوں کے حامیوں نے سڑکیں، ریلوے ٹریکس کو بند کردیا تھا۔ ریاست مغربی بنگال بھر میں سڑکوں پر بیٹھے رہو احتجاج بھی کیا گیا۔ سڑکوں سے خانگی موٹر گاڑیاں غائب تھیں البتہ عوامی ٹرانسپورٹ بسیں اور ٹیکسیوں کی کم تعداد چلائی گئی۔ کولکاتا میں سی پی آئی کارکنوں نے ایس ایف آئی اور بی وائی ایف آئی ارکان کے ساتھ مل کر لیک ٹاؤن کالج اسٹریٹ جادھو پور اور شیاما بازار 5 پوائنٹ کراسنگ پر دھرنا دیا، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی۔ اِسی دوران چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے کہاکہ کسانوں کا یہ احتجاج مکمل طور پر کامیاب رہا۔ پولیس نے انھیں سنگھو سرحد پر احتجاجی کسانوں سے ملاقات کے بعد نظربند کردیا۔ دہلی پولیس نے اِس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔