کسانوں کی محنت کامیاب ،عادل آباد میں رکن اسمبلی جوگو رامنا کا میڈیا سے خطاب
عادل آباد۔ کسان سیاہ قوانین کے تعلق سے مرکزی حکومت کی ہٹ دھرمی کو اس وقت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب ریاستی حکومت کے سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دھان کی خریدی کو مرکزی حکومت کے تحت خریدنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنا منظم کیا جس کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپنے بیان میں کسانوں کے لئے عائد کردہ تین قوانین کو آئندہ پارلیمانی اجلاس میں منسوخ کرنے سے اتفاق کیا جس پر عادل آباد کے رکن اسمبلی مسٹر جوگو رامنا نے اپنے کیمپ آفس میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کسانوں کے کامیاب احتجاج کو قابل مبارکباد قرار دیا اور عنقریب منعقد ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں سیاہ قانون کی منسوخی اور سوامی ناتھ کمیشن کی پیش کردہ رپورٹ پر عمل کرنے تک کسانوں کو اپنا احتجاج جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ جوگو رامنا نے ریاست تلنگانہ میں زراعت پیشہ افراد کے دھان کو ایف سی آئی کے تحت خریدنے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا بصورت دیگر ریاستی حکومت کی جانب سے کسانوں کی تائید و حمایت میں ملک گیر سطح پر احتجاج منظم کرنے کی بات کہی۔ کسانوں کے لئے عائد کردہ سیاہ قانون کے خلاف احتجاج میں فوت ہونے والے 700 کسانوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے ایکس گریشیا ادا کرنے اور ان کے افراد خاندان میں ایک ، ایک فرد کو ملازمت فراہم کرنے کا بھی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں تقریباً 15 ماہ سے جاری کسانوں کے احتجاج کے دوران عائد کردہ تمام مقدمات کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ سیاہ قوانین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے کسانوں کی تائید وحمایت کرنے والے تقریباً 500 تنظیموں اور ملک کے ایک کروڑ 40 لاکھ ڈرائیورس جن میں لاری ڈرائیور، بس ڈرائیور، ٹریکٹر ڈرائیورس و دیگر شامل ہیں تمام سے مسٹر جوگو رامنا نے اظہار تشکر کیا۔ ایک سال قبل 30نومبر کو کسانوں کے احتجاجی دھرنا پر آنسو گیس، واٹر برسانے والے، راستہ میں رکاوٹیں کھڑا کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ جوگو رامنا نے میڈیا سے خطاب کے موقع پر نائب صدر بلدیہ ظہیررمضانی، اے بھوجا ریڈی، یونس اکبانی ، محمد اشرف، سلیم الدین قاضی کونسلر بلدیہ کے علاوہ دیگر افراد موجود تھے۔
