کسانوں کی 14 دسمبر کو بھوک ہڑتال

,

   

زرعی قوانین کو واپس لینے تک احتجاج جاری رہیگا ، مودی حکومت کے مخالفت کرنے والے قوم دشمن: کانگریس
نئی دہلی :۔ مودی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسان یونینوں کے قائدین نے 14 دسمبر کو بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ۔ جب کہ وزیراعظم نریندر مودی نے تیقن دیا کہ ان کی حکومت کسانوں کی بہبود کے لیے پابند عہد ہے ۔ وزیراعظم کے تیقن کے باوجود کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کرتے جارہا ہے ۔ کسانوں کے اناج کو فروخت کرنے کے لیے متبادل مارکٹس فراہم کرنے کا وعدہ بھی بے اثر رہا ۔ دارالحکومت دہلی سے متصل سنگھو سرحد پر کسانوں نے دہلی چلو کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج مرکز کے تین نئے قوانین کی واپسی تک جاری رہے گا ۔ کسانوں کا یہ احتجاج تیسرے ہفتہ میں داخل ہوچکا ہے ۔ حکومت سے بات چیت ہنوز تعطل کا شکار ہے ۔ کسان قائدین نے آج کہا ہے کہ انہوں نے تہیہ کرلیا ہے کہ وہ متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف اپنے احتجاج سے نہیں ہٹیں گے اور 14 دسمبر کو بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے اگر حکومت ہم سے بات کرنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں ۔ لیکن سب سے پہلے تین نئے زرعی قوانین کی تنسیخ پر بات چیت ہونی چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ شاہجہاں پور کے کسان اتوار کے دن صبح گیارہ بجے جئے پور ۔ دہلی قومی شاہراہ کے ذریعہ ’’دہلی چلو‘‘ مارچ شروع کریں گے۔ اسی دوران کانگریس نے مودی حکومت الزام عائد کیا کہ وہ احتجاجی کسانوں کے مطالبات کو نظر انداز کررہی ہے اور اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا رہی ہے ۔
مودی حکومت کی مخالفت کرنے والے ماویسٹ اور قوم دشمن قرار دئیے جارہے ہیں۔ کانگریس کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ بعض سماج دشمن عناصر کسانوں کے تحت جاری احتجاج کی فضا کو برباد کرنے کی سازش کررہے ہیں ۔ انہوں نے احتجاجی کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو غلط استعمال سے روکیں ۔ کسانوں کے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر بعض لوگ اپنے مقاصد کو پورا کرنے مودی حکومت پر الزام عائد کررہے ہیں ۔ پنجاب اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کسان دہلی جانے والی قومی شاہراہوں پر چکہ جام کیے ہوئے ہیں ۔ وزیراعظم مودی نے فکی کے 93 ویں سالانہ عام اجلاس اور کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو اپنی اشیاء فروخت کرنے کے لیے اب مقامی مارکٹوں کے علاوہ باہر کے بیوپاریوں کو بھی فروخت کرنے کا موقع ملے گا ۔۔