کسانوں کے قرض معافی میں تلنگانہ ملک کی سرفہرست ریاست

   

کانگریس ارکان پارلیمنٹ کا دعویٰ، بی آر ایس قائدین پر گمراہ کن پروپگنڈہ کا الزام
حیدرآباد ۔ 19۔ جولائی (سیاست نیوز) کانگریس ارکان پارلیمنٹ ڈاکٹر ملو روی ، بلرام نائک اور رگھو رام ریڈی نے دعوی کیا کہ کسانوں کے قرض معافی سے متعلق بی آر ایس کے پروپگنڈہ کے باوجود کانگریس حکومت نے ایک لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کرتے ہوئے تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ لوک سبھا چناؤ کی انتخابی مہم میں کسانوں میں الجھن پیدا کرتے ہوئے بی جے پی نے سیاسی فائدہ حاصل کیا۔ ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ راہول گاندھی نے ورنگل میں کسانوں سے جو وعدہ کیا تھا ، ریونت ریڈی نے اس کی تکمیل کی ہے ۔ 15 اگست تک دو لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات معاف کردیئے جائیں گے ۔ ملو روی نے کہا کہ 69 لاکھ کسانوں کے 31 ہزار کروڑ کے قرض معاف کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تاریخ میں ریونت ریڈی نے خود کو کسانوں کا حقیقی ہمدرد ثابت کردیا ہے ۔ قرض معافی کے معاملہ میں تلنگانہ ملک کی نمبر ون ریاست بن چکی ہے۔ یو پی اے دور حکومت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کسانوں کی بھلائی کے اقدامات کئے تھے۔ ملو روی نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اپنے اپنے حلقہ جات میں کسانوں کے ساتھ قرض معافی جشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب رعیتو بھروسہ اسکیم پر عمل آوری کیلئے بھٹی وکرمارکا کی قیادت میں کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ میں رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت 39 ہزار کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی۔ ملو روی نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں کسانوں کے قرض معافی کے وعدہ کو نظر انداز کردیا گیا تھا ۔ بلرام نائک نے کہا کہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ حکومت کے خلاف غیر ضروری بیان بازی کرتے ہوئے عوام میں الجھن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ راہول گاندھی نے کسانوں سے جو وعدہ کیا تھا ، ریونت ریڈی نے اس کی تکمیل کی ہے۔ کھمم کے رکن پارلیمنٹ رگھو رام ریڈی نے بتایا کہ کھمم میں کسانوں کے 69 ہزار بینک اکاؤنٹس میں 300 کروڑ جمع کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے 3756 دنوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود انتخابی وعدوںکی تکمیل نہیں کی ۔ 1