سی پی آئی قائد سدھاکر ریڈی کی تنقید، سپریم کورٹ سے انصاف رسانی کا مطالبہ
حیدرآباد: سی پی آئی کے سابق قومی جنرل سکریٹری اور سابق رکن پارلیمنٹ ایس سدھاکر ریڈی نے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 56 دن سے کسان احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت کے ساتھ مختلف مراحل میں ہوئے مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ چار رکنی کمیٹی کو کسانوں نے مسترد کردیا ہے۔ سدھاکر ریڈی نے کہا کہ کسانوں کا مطالبہ حق بجانب ہے اور وہ سپریم کورٹ کی کمیٹی سے بات چیت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ کمیٹی کے چاروں ارکان مرکزی زرعی قوانین کے حق میں پہلے ہی اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔ کسانوں کی نظر میں سپریم کورٹ کی اہمیت کم ہوچکی ہے ۔ سدھاکر ریڈی نے حیرت کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت زرعی قوانین پر پارلیمنٹ میں مباحث کے لئے تیار نہیں ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی سے مرکزی قوانین کو رجوع کیا گیا ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کسانوں کے احتجاج کو کمزور کرنے کیلئے بی جے پی قائدین ملک بھر میں کسانوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ احتجاجی کسانوں کو ملک دشمن اور خالستان کا حامی قرار دیا جارہا ہے ۔ سپریم کورٹ کی کمیٹی میں شامل ایک رکن نے کسانوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی مرکزی قوانین کو کسانوں کے مفاد میں قرار دے رہے ہیں لیکن وہ اس بات کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں کہ یہ قوانین کس طرح کسانوں کے مفادات کا تحفظ کر پائیں گے۔ سدھاکر ریڈی نے کہا کہ ملک بھر میں زرعی شعبہ کو نقصانات سے بچانے کیلئے حکومت کو چاہئے کہ کسانوں کے مطالبات کو قبول کرتے ہوئے زرعی قوانین سے دستبرداری اختیار کرلیں۔ انہوں نے حکومت پر ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کارپوریٹ شعبہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے حکومت کسانوں کے مفادات کا سودا کر رہی ہے۔ ہریانہ ، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، اترپردیش اور مہاراشٹرا کے کسان احتجاج میں شامل ہوچکے ہیں۔ سدھاکر ریڈی نے کہا کہ احتجاج کے دوران 140 کسانوں کی موت واقع ہوگئی لیکن کسان اپنے موقف پر اٹل ہیں۔ سپریم کورٹ کو مزید کسی تاخیر کے بغیر حکومت کو زرعی قوانین سے دستبرداری کی ہدایت دینی چاہئے۔