اجے مشرا ٹینی، کرن بھوشن اور ریونّا کیخلاف برہم کسانوں کی محاذ آرائی
نئی دہلی : لوک سبھا انتخابات 2024 کے لیے ووٹنگ کے تین مراحل ہو چکے ہیں اور اشارے مل رہے ہیں کہ حکمراںبی جے پی اس بار اپنی 2019 کی کارکردگی کو نہیں دہرا پائے گی۔ اسی دوران کسانوں نے این ڈی اے ۔ بی جے پی امیدواروں اجے مشرا ‘ٹینی’، کرن بھوشن سنگھ اور پرجول ریونا کے خلاف محاذ آرائی کر کے بی جے پی کے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔اتر پردیش کی کھیری لوک سبھا سیٹ سے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ ٹینی اور قیصر گنج سے جنسی ہراسانی کے ملزم برج بھوشن سنگھ کے بیٹے کرن کی امیدواری کو ‘کسانوں اور خواتین’ کی ‘توہین’ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سنیوکت کسان مورچہ کی جانب سے ان کی امیدواری کے خلاف جاری کیے گئے پوسٹر پر بی جے پی کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ پوسٹر میں ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سابق صدر اور بی جے پی ایم پی برج بھوشن سنگھ، کرناٹک میں بی جے پی کے اتحادی جنتا دل (سیکولر) کے رہنما پرجول ریونا اور نریندر مودی حکومت میں وزیر ‘ٹینی’ کی تصویریں ہیں۔ اس کے علاوہ پوسٹر پر لکھا ہے کہ ’’برج بھوشن کے بیٹے، پرجول ریونا اور اجے مشرا ٹینی کو انتخابی میدان میں اتارنے سے خواتین اور کسانوں کا غصہ بڑھ گیا ہے۔بی جے پی حکومت اور کسانوں کے درمیان کافی عرصے سے تناؤ چل رہا ہے۔ کسانوں نے بی جے پی حکومت کے تین متنازعہ زرعی قوانین کیخلاف دہلی کی سرحدوں پر ایک سال سے زیادہ عرصے تک احتجاج کیا تھا۔ تحریک کے دباؤ میں مودی نے تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لے لیا۔کسانوں کے علاوہ ایس کے ایم نے عام لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ‘سیاست کو مجرمانہ بنانے’ کی سختی سے مخالفت کریں۔ ایس کے ایم سنٹرل کوآرڈینیشن کمیٹی کے سینئر رکن آشیش متل کا کہنا ہے کہ ملک میں 10 سال سے برسراقتدار رہنے والی بی جے پی مزید اقتدار میں رہنے کے لیے مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ کسانوں کی یہ ناراضگی بی جے پی کو مہنگی بھی پڑ سکتی ہے۔
تاہم فی الحال بی جے پی کسانوں کے مطالبات اور ناراضگی کو نظر انداز کر رہی ہے۔