نئے زرعی قوانین زراعت کو تباہ کردیں گے ، دنیا بھر میں کسانوں کے حق میں ریالیاں ، لندن میں سینکڑوں گرفتار
نئی دہلی : مرکز کی مودی حکومت کی جانب سے لائے گئے زرعی قوانین کیخلاف کسانوں کے /8 ڈسمبر منگل کو بھارت بند کو تمام اپوزیشن پارٹیوں کی تائید حاصل ہے ۔ اپوزیشن قائدین نے کہا کہ نئے زرعی قوانین ملک کی زراعت کو تباہ کردیں گے ۔ کسانوں کو اپنی زمینات کارپوریٹ گھرانوں کے پاس گروی رکھنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ اپوزیشن کے اعلیٰ قائدین نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ /8 ڈسمبر بروز منگل احتجاجی کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کرتے ہیں ۔ اس مشترکہ بیان پر صدر کانگریس سونیا گاندھی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی صدر شردپوار ، نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ ، ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن ، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو ، سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری ، سی پی آئی کے ڈی راجہ ، آر جے ڈی کے تیجسوی یادو اور سی پی آئی ایم ایل کے دیپانکر بھٹا چاریہ نے دستخط کئے ہیں ۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے عام آدمی پارٹی کے تمام ورکرس پر زور دیا ہے کہ وہ کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کریں ۔ اپوزیشن قائدین کا کہنا ہے کہ یہ نئے قوانین غیرجمہوری طریقہ سے لائے گئے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں منظورہ ان قوانین کے ذریعہ کسانوں کو بے بس کیا جارہا ہے ۔ پارلیمنٹ میں ان قوانین پر وسیع تر غور و خوص نہیں کیا گیا اور نہ ہی رائے دہی کروائی گئی ۔ مودی حکومت کی پالیسیوں سے ہندوستان کی غذائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ زرعی سرگرمیاں اور ہمارے کسانوں کو شدید دھکا پہونچایا گیا ہے ۔ کسانوں کیلئے اقل ترین امدادی قیمت اور زرعی اراضیات کو رہن رکھنے کیلئے یہ قوانین خطرناک ثابت ہورہے ہیں ۔ انہوں نے مرکز پر زور دیا کہ وہ ہمارے کسان بھائیوں ، انداتاؤں کے جائز مطالبات کو پورا کریں اور ان کے مسائل کی سماعت کریں ۔ اپوزیشن قائدین نے کہا کہ ہم تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین اس بات پر زور دیتے ہوئے کسانوں کی احتجاجی کی تائید کرتے ہیں اور اظہار یگانگت بھی کرتے ہیں ۔ کئی کسان تنظیموں نے ملک بھر میں احتجاج شروع کیا ہے ۔ /8 ڈسمبر کو بھارت بند کی اپیل کی گئی ہے تاکہ مودی حکومت کسان دشمن قوانین کو واپس لے سکیں ۔ نریندر مودی حکومت اور کسانوں کے قائدین کے درمیان پانچویں مرحلہ کی بات چیت بھی غیرمختتم رہی ہے ۔ کسانوں کی تائید میں دنیا بھر میں ریالیاں نکالی گئیں ۔ لندن میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ۔ پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے ۔
کل بھارت بند
12 ریاستوں میں کسانوں اور ٹریڈیونینوں کی تائید
نئی دہلی : مرکز کے زرعی قوانین کیخلاف کسانوں کے احتجاج کو 12 ریاستوں کے کسانوں اور ٹریڈ یونینوں کی تائید حاصل ہے ۔ شمالی ہند کے تمام علاقوں سے بھی تائید مل رہی ہے ۔ /8 ڈسمبر کو کسان تنظیموں نے بھارت بند کی اپیل کی ہے ۔ بھارت بند کو ملنے والی تائید کے بعد کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران ستمبر میں مرکزی حکومت نے زرعی قانون منظور کیا تھا ۔ دہلی ، پنجاب ، ہریانہ ، اترپردیش ، اتراکھنڈ ، چندی گڑھ ، مغربی بنگال ، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، اڈیشہ اور ٹاملناڈو بھی ان 12 ریاستوں میں شامل ہیں ۔ اب تک 10 سے زائد سنٹرل ٹریڈ یونینوں نے مشترکہ طورپر کسانوں کے احتجاج کی تائید کی ہے ۔ حکومت کے ساتھ کسانوں کی پانچویں دور کی بات چیت بھی غیرمختتم رہی ۔ کسانوں کا یہ احتجاج 11 ویں دن میں داخل ہوا ہے ۔ کسانوں کے زائد از 40 نمائندوں نے سنگھو سرحد پر آج صبح سے اجلاس منعقد کیا ۔ یہ علاقہ دہلی چندی گڑھ روٹ پر احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ کسانوں نے منگل کے دن بھارت بند کا منصوبہ بنایا ہے اور اس احتجاج کو وسعت دینے کیلئے مزید حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ کسانوں کی تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے پہلے اور سب سے اہم مطالبہ تین اہم زرعی قوانین کی تنسیخ تک یہ احتجاج جاری رکھیں گے ۔ اگر حکومت نے ان تین قوانین کو واپس نہیں لیا تو احتجاج عروج پر پہنچ جائے گا ۔ پانچویں ملاقات میں حکومت نے بعض قوانین میں ترمیم سے اتفاق کیا ہے ۔
حکومت کسانوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا ڈھونگ کررہی ہے :کانگریس
نئی دہلی:کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کسان تحریک کو ختم کرنے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے اور وہ کسانوں کے ساتھ بات چیت کا ڈھونگ کرکے ملک کے کسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے اتوار کو یہاں نامہ نگاروں کی کانفرنس میں کہا ہے کہ ایک طرف حکومت تحریک چلارہے کسانوں کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کررہی ہے اور دوسری طرف وزیراعظم نریندر مودی بات چیت شروع ہونے سے دو دن پہلے وارانسی میں اعلان کررہے ہیں کہ کسان جن قوانین کے خلاف تحریک چلارہے ہیں، انہیں واپس نہیں لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اس اعلان سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت کے کسانوں کے ساتھ بات چیت کے دروازے بند ہیں وہ انہیں صرف گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے مطالبے پر غور ہی نہیں کرنا ہے توپھر بات چیت کا ڈھونگ کیوں کیا جارہا ہے ۔ترجمان نے بتایا کہ کسانوں کے ساتھ حکومت جس طرح کا رویہ اختیار کررہی ہے اس سے واضح ہے کہ ان کے لئے دہلی کے سارے دروازے بند کردیئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کسان تحریک کے سلسلے میں پوری دنیا میں طرح طرح کی باتیں کی جارہی ہیں اور اس سے ملک کی شبیہ خراب ہورہی ہے ۔ اس لئے حکومت کو تصحیک کرانے کے بجائے کسانوں سے فوری طور سے بات چیت کرکے ان کی بات تسلیم کرنی چاہئے ۔