کسان احتجاج میں 700 سے زیادہ اموات کا حکومت ہند کے پاس کوئی ریکارڈنہیں ،پارلیمنٹ میں بولے مرکزی وزیر -معاوضہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

,

   

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس کسانوں کے احتجاج کے دوران مرنے والے کسانوں اور ان کے خلاف درج مقدمات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی کو مالی امداد یعنی معاوضہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے یہ تحریری جواب لوک سبھا میں پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس میں ایک سوال کے جواب میں دیا ہے۔پارلیمنٹ میں سوال پوچھا گیا کہ کیا حکومت کے پاس ان کسانوں کا کوئی ڈیٹا ہے جو احتجاج کے دوران مر گئے اور کیا حکومت ان کے اہل خانہ کو مالی امداد دینے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ جس کے جواب میں وزیر زراعت کا یہ جواب آیا ہے۔ وزیر نے اس ایوان کو یہ بھی بتایا کہ مرکزی حکومت نے کسان لیڈروں کے ساتھ 11 دور کی بات چیت کی تھی لیکن یہ بات نہیں بن سکی۔ دوسری طرف کسان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران 700 سے زیادہ کسانوں کی موت ہو چکی ہے۔ بتا دیں کہ 11 دن پہلے قوم سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا اور اس کے لیے کسانوں سے معافی مانگی تھی.