چنڈی گڑھ: این جی او رورل انڈیا کے صدر اور ہریانہ پرریاستی کانگریس کے ترجمان وید پرکاش ودروہی نے چہارشنبہ کو ماجرا گاؤں کے کسانوں سے عاجزانہ درخواست کی کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑکر اہیروال کی صحت کی خدمات کے لیے اپنی باقی بچی زمین کی رجسٹری فوری طور پرآل -انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے نام پرکرائیں۔مسٹر ودروہی نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ماجرا ایمس پروجیکٹ اہیروال کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے صحت کے شعبے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا جس کا فائدہ ہریانہ اور راجستھان کی سرحد سے متصل ہر عام و خاص کو ملے گا۔ ماجرا ایمس پروجیکٹ کو صرف ڈھائی ایکڑزمین کے لئے لٹکانا پورے اہیروال کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ جب ماجرا کے دیگر کسانوں نے علاقے کے مفاد میں کوڑیوں کے بھاؤ اپنی زمین ایمس کے نام پرکر دی ہے تو باقی کسانوں کو بھی قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پہلے ہی ترقیاتی معاملات میں سیاسی وجوہات کی وجہ سے اہیروال کے ساتھ امتیازی سلوک کر تی ہے ۔ ایمس کی تعمیر کے لیے وزیر اعلیٰ کی اپنی نیت میں کھوٹ ہے ۔ یہ تو اہیروال کے لوگوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ ان کی نیت صاف نہ ہونے کے باوجود مسٹر کھٹر کو مجبوری میں ماجرا ایمس کے تعمیراتی منصوبے کو آگے بڑھانا پڑ رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر یہاں کے لوگ ایمس کی تعمیر میں رکاوٹیں پیدا کریں گے تو کھٹر حکومت کو اسے روکنے کا بہانہ مل جائے گا۔ مسٹر ودروہی نے کہا کہ اہیروال کے لوگوں کے شدید دباؤ کی وجہ سے بی جے پی حکومت کو بھی بچی ہوئی ڈھائی ایکڑ زمین کا حصول اراضی قانون کے تحت حاصل کرنا ہوگا۔