کسان قائدین کا آج ’’ٹریکٹر مارچ‘‘

,

   

یوم جمہوریہ پریڈ کیلئے ٹرائل ، احتجاج 43 ویں دن میں داخل

نئی دہلی : دارالحکومت دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرنے والے کسانوں نے کل 7 جنوری کو ٹریکٹر مارچ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں کا احتجاج 43 دن میں داخل ہوا ہے۔ کسان یونین قائدین نے مرکز کی مودی حکومت کی جانب سے منظورہ تین نئے زرعی قوانین کی واپسی کے مطالبہ پر اٹل رہنے کا عہد کیا ہے۔ فصلوں پر اقل ترین امدادی قیمت کا اعلان کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ سمکتا کسان مورچہ نے مشرقی اور مغربی ایکسپریس وے پر کل جمعرات کے دن ٹریکٹر مارچ نکالتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرانے کا اعلان کیا۔ جنرل سکریٹری بھارتیہ کسان یونین اور پنجاب کے کسان لیڈر نریندر سنگھ لکھوول نے کہا کہ ان کے احتجاج میں شدت لانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ جمعرات کے احتجاج اور ٹریکٹر مارچ کو کامیاب بنانے کیلئے پروگرام تیار کیا گیا ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کسانوں کو اطلاع دی گئی ہیکہ وہ اس مارچ کیلئے اپنے ٹریکٹروں کے ساتھ آجائیں۔ ہریانہ، اترپردیش اور راجستھان سے تعلق رکھنے والے کسان بھی اس ریالی میں شرکت کررہے ہیں۔ کسان قائدین نے کہا کہ ان کا ٹریکٹر مارچ 26 جنوری کو منعقد ہونے والے یوم جمہوریہ پریڈ کیلئے ٹرائل ہوگا۔ پیر کے دن مرکزی حکومت کے ساتھ ساتویں دور کی بات چیت کے بعد کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ یہ صورتحال برقرار ہے اس لئے کسانوں نے فیصلہ کیا ہیکہ 7 جنوری کو ٹریکٹر مارچ نکالا جائے۔ قبل ازیں سمکتا کسان مورچہ نے 6 جنوری کو ٹریکٹر مارچ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن خراب موسم کے باعث اس مارچ کو معطل کردیا گیا۔ اس نے یہ بھی اعلان کیا کہ 6 جنوری تا 20 جنوری کو عوام میں بیداری شعور مہم چلائی جائے گی اس کے ساتھ ساتھ کئی پروگرام بھی منعقد کئے جائیں گے۔