7 جنوری تک ہر ضلع میں مظاہروں کا منصوبہ،کے سی آر کو اقتدار پر برقراری کا حق نہیں
حیدرآباد۔ کانگریس پارٹی نے زرعی شعبہ کے بارے میں ٹی آر ایس حکومت کے فیصلوں کے خلاف کل 30 ڈسمبر سے ریاست بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ 30ڈسمبر تا 7 جنوری ہر منڈل سطح پر احتجاجی مظاہرے منظم کرتے ہوئے تحصیلداروں کو یادداشت پیش کی جائے گی۔ 11 جنوری کو تمام ضلع ہیڈ کوارٹرس پر کسانوں کے احتجاجی مظاہرے ہوں گے جبکہ 18 جنوری کو ریاست کے کسی ایک مقام پر ریاستی سطح کا احتجاج منظم کیا جائے گا۔ کسانوں سے متعلق ٹی آر ایس حکومت کے فیصلوں پر آج گاندھی بھون میں سینئر قائدین کا اجلاس منعقد ہوا۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، ارکان مقننہ سریدھر بابو ، جگا ریڈی، جیون ریڈی، ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر اور آل انڈیا کسان کانگریس کے نائب صدر نشین ایم کودنڈا ریڈی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ دہلی میں نریندر مودی اور امیت شاہ سے ملاقات کے بعد کے سی آر نے اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے ۔ بی جے پی سے خوفزدہ ہوکر اندرونی مفاہمت کرلی گئی اور تلنگانہ میں مرکزی زرعی قوانین پر عمل آوری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف کسان فیصلوں کے بعد کے سی آر کو عہدہ پر برقراری کا اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 70 برسوں سے حکومت کسانوں سے دھان کی خریدی کرتی ہے لیکن کے سی آر حکومت نے کسی بھی پیداوار کی خریدی کو بند کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت 7500 کروڑ کے نقصانات کے جھوٹے دعویٰ کے ذریعہ مرکزی حکومت کے حق میں فیصلہ کررہی ہے۔ 2004 میں ہر ضلع میں زرعی پیداوار کی خریدی کے مراکز قائم کئے گئے تھے۔ اتم کمار ریڈی نے کسانوں کی پیداوار کی خریدی بحال کرنے اور خریدی کے مراکز کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر کے کسان حکومت کے فیصلہ سے سخت ناراض ہیں۔ کانگریس کی جانب سے بہت جلد راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور کسانوں کی تنظیموں کو مدعو کیا جائے گا۔ صدر پردیش کانگریس نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ کسانوں کی ناراضگی ٹی آر ایس حکومت کے زوال کا سبب بن جائے گی۔ مرکزی حکومت کے دباؤ کے تحت کے سی آر نے یہ فیصلہ کیا ہے۔