کسان مظاہرین ،وزیر اعظم مودی کے فون کے منتظر :کانگریس

,

   

کسان تنظیموں کا آج ’یوم سیاہ‘، دہلی سے متصل ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کا دھرنا ، راجستھان میں کسانوں کا احتجاج

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ زرعی قوانین ملک میں ایک بڑی تحریک کے طور پر ابھررہی ہے اور کسان ان قوانین کو واپس لینے کیلئے سو دن سے دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کررہے ہیں ، لیکن حکومت ان کے تئیں بے حس اور بے نیاز بنی ہوئی ہے ۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتہ کے روز یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ 100 دن تک جاری رہنے والے کسانوں کے مظاہرے کے دوران 255 کسان ہلاک ہوچکے ہیں ، لیکن حکومت ان کے مطالبات پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہے اور ملک کے ان داتاؤں کے مسئلہ کے حوالہ سے سرکارکی کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ کسانوں کی پریشانی کا حل صرف ایک فون کی دوری پر ہے ۔ وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد سے کسان مسٹر مودی کے فون کال کا انتظار کرتے ہوئے تھک چکے ہیں ، لیکن حکومت ان سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے ۔کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ کاشتکار سماج کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں اور وہ اپنے مستقبل کی تشویش کے حوالہ سے 100 دن سے احتجاج و مظاہرہ کر رہے ہیں ، لہذا ملک کے تمام لوگوں کو ان کی حمایت کرنی چاہئے اور یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہونی چاہئے ۔ مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کے ہفتے کے روز 100 دن مکمل ہونے پر تحریک کار کسان تنظیم اس دن (چھ مارچ) کو ‘یوم سیاہ’ کے طور پر منا رہا ہے ۔ اس درمیان تحریک کار کسانوں نے آج پانچ گھنٹوں کے لیے کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو جام کر دیا ہے ۔ ایکسپریس وے آج 1100 بجے سے 1600 بجے تک جام رہے گا۔ سنیُکت کسان مورچہ (ایس ایم پی) نے کسان تحریک کے 100 دن پورے ہونے کے موقع پر چھ مارچ (ہفتے ) کو ‘یوم سیاہ’ کے بطور منانے اور کنڈلی-مانیسر-پلول (کے ایم پی) ایکسپریس وے کو پانچ گھنٹوں کے لیے جام کرنے کا اعلان ہفتے کے روز کر دیا تھا۔ کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین گیارہ دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن دونوں کے درمیان ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہوا ہے ۔ کسان رہنما زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حکومت قوانین واپس لینے کو بالکل تیار نہیں ہے ۔ کسانوں کی تحریک 26 نومبر کو شروع ہوئی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں خصوصی طور پر پنجاب اور ہریانہ کے کسان دہلی سے متصل سرحدوں کے آس پاس دھرنا-مظاہرہ اور تحریک چلا رہے ہیں۔ راجستھان میں ضلع بوندی کے کیشوارائے پاٹن میں واقع شوگر مل کے پھر سے چالو کرانے کے مطالبے کے لئے ضلع کے کسان ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کوٹہ میں احتجاج ومظاہرہ اور بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ ریاست کا کوئی وزیر، ڈویژنل اور ضلع بوندی سطح کا کوئی افسر اب تک ان کی خبر لینے کے لئے نہیں آیا ہے ۔کسانوں کادرد ہے کہ کیشورائے پاٹن شوگر مل کے بند ہوجانے کے سبب انہیں شدیدمالی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ جس وقت کیشورائے پاٹن شوگر مل چل رہی تھی، تب ضلع بوندی کے کیشورائے پاٹن، بلکہ تالیڑا، اندر گڑھ، لاکھیری اور بوندی ہی نہیں بلکہ ضلع بھر میں کسان گنے کی پیداوار کرکے اچھا خاصا منافع کماتے تھے ، جس سے اب کیشورائے پاٹن مل کے بند ہونے کی وجہ سے اس سے محروم ہیں۔یہ شوگر مل1970 میں قائم ہوئی تھی اور تقریبا 30 سال تک چلنے کے بعد یہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ پہلے بند کردی گئی جس کے سبب ضلع بوندی کے گنے کی کاشت کرنے والے کاشتکار شدید مالی بحران میں آگئے اور آہستہ آہستہ گنے کی کاشت کم ہوتی چلی گئی۔ہاڈوتی کسان یونین کے جنرل سکریٹری دشرتھ کمار شرما نے کہا کہ بند شوگر مل چلانا ریاستی حکومت کے لئے نقصان کا سودا نہیں ہے ۔ اس مل کے بندہونے کے بعد ایک زرعی ماہر سے سروے کرایا گیا جنہوں نے اپنی رپورٹ میں ذکر بھی کیا کہ اترپردیش کے سردار نگر (گورکھپور) ضلع، خلیل آباد (بستی ضلع) اور مدھیہ پردیش کی ڈبرا گوالیار شوگر مل کو کئی سالوں تک بند رہنے کے بعد پھرسے چلایا گیا اور ان کا آپریشن فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔